وزیراعظم سائیں تاکائیچی کے دفتر کے مطابق بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں 3.1135 ٹریلین ین (تقریباً 19 ارب ڈالر) کے ضمنی بجٹ کی باضابطہ منظوری دی گئی۔
جاپانی حکومت کے ترجمان منورو کہارا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں مسلسل غیر یقینی کے پیش نظر یہ بجٹ ممکنہ خطرات کو کم سے کم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اضافی فنڈز حکومت کو مضبوط مالی تیاری برقرار رکھنے میں مدد دیں گے، جبکہ قیمتوں کے رجحانات پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ عوام کی روزمرہ زندگی اور معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
وزیراعظم سانائے تاکائیچی اس سے قبل بھی اعلان کر چکی ہیں کہ یہ اضافی بجٹ پیٹرول، بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں جاپان سمیت متعدد درآمدی معیشتوں کو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ہے۔
جاپان کی معروف اسنیک کمپنی کالبی نے مئی میں اپنی 14 مصنوعات کی پیکیجنگ تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس تبدیلی کی ایک وجہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والی سیاہی کی قلت بھی تھی۔
وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے کہا کہ حکومت کو توقع ہے کہ آئندہ موسمِ بہار تک تیل کی مستحکم فراہمی برقرار رہے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ دیگر علاقوں سے نیفتھا (تیل سے حاصل ہونے والی ایک اہم صنعتی مصنوعات) کی متبادل سپلائی بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے 80 فیصد سے زائد تک بحال ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب بینک آف جاپان نے اپریل میں اپنے افراطِ زر کے تخمینے بڑھا دیے تھے جب کہ معاشی ترقی کی پیش گوئیوں میں کمی کر دی تھی، کیونکہ ایران جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو جاپان سمیت توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو مہنگائی اور معاشی سست روی کے مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔







