وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ وفاقی بجٹ کے متعدد امور تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بجٹ کے حوالے سے کئی معاملات پر ابھی مزید مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت انتہائی کم ہے، جب کہ محرم الحرام بھی قریب آ رہا ہے، اس لیے تمام امور کو مقررہ تاریخ تک مکمل کرنا ایک چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض تبدیلیاں بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بجٹ کی تاریخ میں رد و بدل ہوگا یا نہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان مکمل مفاہمت موجود ہے۔
احسن اقبال کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت چھوٹے صوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ فنڈز بلوچستان کے لیے مختص کیے جائیں گے، اس کے بعد سندھ اور پھر خیبرپختونخوا کو فنڈز دیے جائیں گے، جب کہ پنجاب کے لیے نسبتاً کم فنڈز رکھے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 265 ارب روپے، سندھ کے لیے 195 ارب روپے، خیبرپختونخوا کے لیے 98 ارب روپے اور پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 72 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں سکھر-حیدرآباد موٹروے منصوبے پر رواں سال کام شروع کیا جائے گا، جب کہ کراچی کے کے-فور منصوبے کے لیے بھی وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں فنڈز مختص کرے گی۔







