اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، جو اب امریکا کے قریبی اتحادی بن چکے ہیں، نے انہیں پیشکش کی ہے کہ اگر اُن کی اجازت ہو تو وہ غزہ میں داخل ہو کر حماس کو سخت کارروائی کے ذریعے ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گردونواح کے ہمارے موجودہ عظیم اتحادیوں نے واضح اور پرجوش انداز میں کہا ہے کہ اگر میں کہوں تو وہ غزہ میں بھاری فوجی قوت کے ساتھ داخل ہو کر حماس کو سیدھا کر دیں گے، اگر حماس نے ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس سطح کا پیار اور جذبہ ہزار سالوں میں نہیں دیکھا گیا اور یہ ایک خوبصورت منظر ہے۔ میں نے ان ممالک اور اسرائیل کو فی الحال ہدایت دی ہے کہ ابھی نہیں! ابھی بھی امید باقی ہے کہ حماس درست راستہ اختیار کرے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے درست قدم نہ اٹھایا تو اس کا انجام تیز، خوفناک اور تباہ کن ہوگا۔

انہوں نے اپنے بیان میں انڈونیشیا اور اس کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے لیے تعاون کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے آخر میں کہا کہ وہ تمام ممالک کے شکرگزار ہیں جنہوں نے اس معاملے میں ان سے رابطہ کیا اور مدد کی پیشکش کی۔

مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد بھی جنگ بندی قائم ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

خیال رہے کہ ان کے اس بیان نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاسی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ کی صورتِ حال پہلے ہی کشیدہ ہے اور عالمی برادری فریقین سے تحمل اور مذاکرات پر زور دے رہی ہے۔