میاں جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ اس سارے ظلم کا اصل میں تو پرچہ شہباز شریف، مریم نواز اور محسن نقوی پر ہونا چاہیے، جنہوں نے سینکڑوں لوگوں کو مروایا ہے۔

انہوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف احتجاج کرنے والوں کو مارا گیا بلکہ ان کی لاشوں کو غائب اور جلایا گیا۔

جلیل شرقپوری نے ماضی کے کچھ واقعات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز فیملی کو اصل میں ظلم کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ انہوں نے پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن کروایا، پھر اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے ساتھ ظلم کیا اور اب تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ وہی کیا جو یہ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔

جب ان سے ٹی ایل پی قیادت کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کہاں ہے اس وقت؟ تو انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی قیادت کو مروا دیا گیا ہے۔

جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی قیادت نہیں ملی تو ان ظالم حکمرانوں نے ایک معصوم بچے کو یہ کہہ کر اٹھا لیا کہ اس کے ہاتھ میں بم تھا اور سعد رضوی کی بیوی کو بھی اٹھا لیا، انہیں شرم آنی چاہیے۔

جب ان سے ٹی ایل پی کے دفتر سے ملنے والی دولت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو سراسر چوری ہے، وہاں عقیدت مندوں کا پیسہ آیا ہوتا ہے تاکہ اس سے ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے، مگر حکومت نے وہ پیسہ چوری کر لیا۔

میاں جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ وہ اس سارے عمل میں پہلی غلطی تحریک لبیک کی سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی مشائخ اور علما کو ساتھ چلنے ہی نہیں دیا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو بھی احتجاج کے لیے نکلے، حکومت اسے گولیوں سے بھون دے۔

مزید انہوں نے پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدے  سے پردہ اٹھایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے موجودہ حکومت پر بھی کڑی تنقید کی۔

انہوں نے سیاسی پارٹیوں اور موجودہ صورتحال پر کیا کہا، یہ جاننے کے لیے پن شدہ یوٹیوب ویڈیو مکمل دیکھیں۔