غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق منگل کی شب سے اب تک اسپتالوں میں 104 شہریوں کی لاشیں لائی گئیں، جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ زخمیوں میں بھی درجنوں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 211 افراد شہید اور 597 زخمی ہو چکے ہیں۔

غزہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسل نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ صرف 12 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج نے ہولناک قتل عام کیا، جسے پوری دنیا اور ثالثی کرنے والے ممالک کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن کوئی روکنے والا نہیں۔

فلسطینی خبر ایجنسی ’’وفا‘‘ کے مطابق شمالی غزہ میں 31، وسطی علاقوں میں 42 جب کہ جنوبی حصوں میں 18 شہری جاں بحق ہوئے۔ اسرائیلی حملوں میں گھروں، پناہ گزین کیمپوں، گاڑیوں، اسپتالوں اور مسجدوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بیت لاحیہ کے ایک اسکول پر بمباری کی جو پناہ گزینوں کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اسی طرح غزہ شہر کے النصری محلے، الشاطی کیمپ اور صبرہ علاقے میں بھی درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔

وسطی غزہ کے دیر البلح علاقے میں خیمے پر حملے میں 4 افراد شہید ہوئے، جب کہ خان یونس کے مغربی علاقے المواعیسی میں 8 افراد، جن میں 3 بچے بھی شامل تھے، اسرائیلی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا ’پوری قوت‘ سے غزہ پر ایک بار پھر حملہ، دو فلسطینی شہید

وزارتِ صحت کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جب کہ ملبے تلے اب بھی درجنوں لاشیں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت 10 اکتوبر کو جنگ بندی عمل میں آئی تھی، جس کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی مغویوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی تعمیر نو شامل تھی۔ تاہم، غزہ میڈیا آفس کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک 47 سے زائد بار معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔


حماس نے ایک بیان میں واضح کیا کہ رفح میں پیش آئے مبینہ فائرنگ کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور ثالث ممالک  مصر، قطر اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں تاکہ اسرائیلی جارحیت روکی جا سکے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 68 ہزار 600 سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے باعث کیمپوں، اسکولوں اور اسپتالوں میں پناہ لینے والے لاکھوں بےگناہ افراد ایک اور انسانی المیے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔