ترقی یافتہ ممالک نے کوئی اسی برس پہلے ایک تجربہ کیا تھا کہ بچوں کو ڈے کیئر کے حوالے کر دو، بزرگوں کو اولڈ ہومز میں بھیج دو اور کھانا بھی کسی کارپوریشن کے سپرد کر دو۔ خاندان کو سہولت ملے گی، کارکردگی بڑھے گی۔

چند دانا معیشت دانوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا تھا کہ بھئی جس دن کچن بند ہوگا، اس دن گھر بھی رفتہ رفتہ بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ان کی بات پر اس وقت کسی نے کان نہ دھرا، البتہ آج کے نرسنگ ہومز، تنہا فلیٹس اور 'سنگل پیرنٹ' اعداد و شمار دیکھ کر لگتا ہے وہ دانا لوگ کوئی جوتشی نہیں، بس تھوڑے دور اندیش تھے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ گھر کا ہر فرد اپنے کمرے میں، اپنی پلیٹ میں، اپنی اسکرین کے سامنے بیٹھا کھانا کھا رہا ہے۔ گھر، گھر کم اور 'شیئرڈ اکاموڈیشن' زیادہ لگنے لگا ہے، جہاں سب کرایہ دار ہیں اور کرایہ محبت کی صورت میں چکایا جاتا تھا، جو اب معطل ہے۔

باہر کے کھانے کا حساب بھی دلچسپ ہے۔ تیل وہ جو انجن میں ڈالنے کے کام آئے، مصالحہ وہ جس کا اصل کام رنگ چڑھانا ہو اور ذائقہ وہ جو لیبارٹری میں تیار ہوا ہو۔

نتیجہ یہ کہ جیب ہلکی، صحت بھاری یعنی موٹاپا، شوگر، بلڈ پریشر اور وہ تمام بیماریاں جن کے نام پہلے صرف بزرگوں کی فائلوں میں لکھے ہوتے تھے، اب اسکول جانے والے بچوں کی رپورٹس میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔

پہلے دادی بتاتی تھیں کیا کھانا ہے، کب کھانا ہے، کتنا کھانا ہے۔ اب یہ کام ملٹی نیشنل کمپنیاں کرتی ہیں۔ ایک ہاتھ سے فاسٹ فوڈ بیچتی ہیں، دوسرے ہاتھ سے دوا۔ یعنی بیمار کرنے اور علاج کرنے کا کاروبار ایک ہی خاندان کی دو شاخیں ہیں۔

سو گزارش ہے کہ کچن کا چولہا بجھنے مت دیجئے۔ کیونکہ یہ محض ایک برتن گرم کرنے کی جگہ نہیں، وہ آخری قلعہ ہے جہاں خاندان ابھی تک روزانہ ایک بار جمع ہوتا ہے۔ قلعہ گرا تو باقی سب دیر سویر گرے گا۔

ایک بیڈ روم سے گھر نہیں بنتا، ایک باورچی خانے سے خاندان جڑتا ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر