نئی سلطنت کا اصول یہ ہے کہ جس کے دربار میں فالوورز کی بھیڑ زیادہ، وہی بادشاہ۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ تخت پر بیٹھنے والے نے کون سی جنگ جیتی، کون سا علم حاصل کیا یا رعایا کی کیا خدمت کی۔ بس اتنا کافی ہے کہ روزانہ کروڑوں آنکھیں اسکرین پر جمی رہیں، خواہ وجہ عقل ہو یا حماقت۔
اور رعایا بھی عجیب رعایا ہے۔ وہ اپنے حکمران کے محل میں رہنے کی خواہش میں گھر بار، عزتِ نفس، حتیٰ کہ خاندانی رشتوں تک کو داؤ پر لگانے کو تیار ہے۔ نہ یہ سوچا جاتا ہے کہ محل اصل میں کس بنیاد پر کھڑا ہے، نہ یہ کہ اس کی چمک کتنی عارضی ہے۔ بس چمک دکھائی دیتی ہے، اور چمکنے والی ہر چیز کو سونا سمجھ لیا جاتا ہے، ایک ایسی غلطی جو صدیوں سے دہرائی جا رہی ہے، مگر اب اس کی رفتار الگورتھم نے کئی گنا بڑھا دی ہے۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ کوئی شہرت کما رہا ہے۔ شہرت کمانا کوئی گناہ نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے شہرت کو خود بخود قابلیت، دانائی اور اخلاقی برتری کا سرٹیفکیٹ سمجھ لیا ہے۔ گویا جتنے زیادہ ویوز، اتنی ہی زیادہ حکمت؛ جتنے زیادہ لائکس، اتنا ہی بڑا کردار۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے بازار میں سب سے اونچی آواز میں چیخنے والے کو سب سے سچا مان لیا جائے۔
اور والدین؟ وہ بھی اسی سلطنت کی رعایا نکلے۔ جس نسل کو یہ سمجھانا تھا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، وہ خود اسی چکاچوند سے مرعوب بیٹھی ہے۔ بچہ فون میں گھسا رہے تو فکر ہوتی ہے، مگر وہی بچہ کسی وائرل شخصیت کی تقلید میں گھر توڑنے پر تیار ہو تو تماشائی بھی ہم اور طرف دار بھی ہم۔ سوال یہ نہیں کہ بچے کہاں جا رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم انہیں کن راستوں کی طرف چھوڑ رہے ہیں۔
اس پوری کہانی میں الگورتھم سب سے بڑا داروغہ ہے۔ وہ نہ نیکی پہچانتا ہے نہ بدی، بس رکنے والی نگاہ پہچانتا ہے۔ اور جو چیز نگاہ روکے، اسے وہ تخت پر بٹھا دیتا ہے، چاہے تخت کی بنیاد ریت پر ہی کیوں نہ ہو۔
حل کوئی فتویٰ یا لیکچر نہیں۔ حل یہ ہے کہ علم اور کردار والے لوگ بھی اسی اسکرین پر اتنے ہی نظر آئیں جتنے شور مچانے والے۔ ورنہ نصیحت اس شور میں دب کر رہ جائے گی جو ہر گھنٹے، ہر منٹ، ہماری جیبوں میں بجتا رہتا ہے۔
میرے لیے سب سے الارمنگ بات یہ تھی کہ ایک ویڈیو میں ایک لڑکی کہتی ہے کہ میں ماں کے ساتھ نہیں جاؤں گی بلکہ ٹک ٹاکر رجب بٹ کا گھر ہی میرا گھرہے۔ ایک دس سال کی بچی سے پوچھا کہ آپ کو کیا پسند ہے؟ کہتی رجب بٹ کا لائف سٹائل۔ سسٹرالوجی، ندیم نانی والا۔ بس اس پر کیا کہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہی کہیں۔
سوشل میڈیا کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر سکتی ہے، مگر عقل کو خیرہ کرنے کی اجازت دینا ہماری اپنی چوائس ہے، اور یہی وہ چوائس ہے جو ہمیں بحیثیت قوم کرنی ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







