یہ دھرنے ایک ایسے ٹیکس کے خلاف ہیں جسے حافظ نعیم الرحمان نے "جگا ٹیکس" کا خطاب دیا ہے۔ حکومت مذاکرات کی میز پر بیٹھی، چائے پی، مسکرائی، اور پھر وہی کیا جو ہمارے ہاں مذاکرات کا مستقل انجام ہوتا ہے۔۔۔۔ کچھ نہیں کیا۔
نتیجہ یہ کہ اب کارواں بیس ستمبر کو دارالحکومت کی طرف چل نکلے گا، اور حکومت شاید اس دن بھی وہی پرانا بیان دہرائے گی کہ "مالی گنجائش محدود ہے۔"
مگر گنجائش کس کی محدود ہے؟ عوام کی جیب کی، یا حکومت کی نیت کی؟
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بحران ہمیشہ کہیں اور جنم لیتا ہے اور اس کا بل ہمیشہ یہیں، ہمارے گھر کے چولہے پر آ کر گرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ لمبی ہو گئی، آبنائے ہرمز پر تالا لگا، اب یمن میں باب المندب پر بھی ایک اور طاقت کا قبضہ ہو گیا اور خام تیل نے سو ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر لی۔ نتیجہ؟ پاکستان میں ستمبر کے مہینے میں سات مرتبہ پیٹرول مہنگا ہوا۔ سات مرتبہ! گویا مہینے کا ہر چوتھا دن پیٹرول پمپ پر ایک نیا "سرپرائز" لے کر آیا۔
اور جب عوام سراپا احتجاج ہوئے تو وزیراعظم صاحب ایک "ریلیف پیکج" لے آئے۔ موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور چھوٹی گاڑیوں والوں کے لیے مخصوص لیٹروں پر سو روپے کی رعایت۔ یعنی درد وہی رہے گا، بس گولی ذرا میٹھی کر کے دی جائے گی۔
حکومت نے فخر سے بتایا کہ ایک سو تیس ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ اسی دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں خزانے نے پندرہ سو ارب سے زائد کمائے۔ گویا ایک ہاتھ سے تھوڑا سا دیا اور دوسرے ہاتھ سے دس گنا واپس سمیٹ لیا۔
سوال یہ نہیں کہ حکومت کے پاس ریلیف کی گنجائش کتنی ہے، سوال یہ ہے کہ حکومت نیت کی گنجائش کتنی رکھتی ہے۔ جس ملک میں پیٹرول پر واحد بیرونِ ملک جنگ کا اثر اتنی تیزی سے پہنچے کہ ایک لیٹر پر ایک سو چھ روپے صرف ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں وصول ہو رہے ہوں، وہاں ’آئی ایم ایف کی شرائط‘ کا بہانہ سن کر عوام کو ہنسی آتی ہے یا رونا یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جہاز، جہازی اور ہم زمین والے
ماہرینِ اقتصادیات بجا فرماتے ہیں کہ اصل مسئلہ سستا پیٹرول دینا نہیں بلکہ ایسی معیشت بنانا ہے جو عالمی جھٹکوں سے کم متاثر ہو۔ مگر یہ نصیحت اس وقت زیادہ معنی رکھتی جب ستّر برس میں کبھی خام تیل پر انحصار کم کرنے کا کوئی سنجیدہ منصوبہ بنایا گیا ہوتا۔
ہر بار جب عالمی منڈی چھینکتی ہے، ہمیں زکام ہو جاتا ہے اور علاج کے نام پر ہمیں وہی پرانا نسخہ تھما دیا جاتا ہے۔ تھوڑی رعایت، بہت سے بیانات اور ’مشکل کی گھڑی میں ساتھ نہ چھوڑنے‘ کے وعدے۔
جماعتِ اسلامی کا دھرنا کامیاب ہو یا ناکام، لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے یا راستے میں ہی تھم جائے۔ اصل سوال وہیں کھڑا رہے گا جو پچھلے کئی برسوں سے کھڑا ہے۔
کیا ریاست کبھی اس نہج پر سوچے گی کہ عوام کو ہر جنگ، ہر پابندی، اور ہر آبنائے کی بندش کا خمیازہ اپنی جیب سے کیوں بھگتنا پڑتا ہے؟ یا پھر یہی چلتا رہے گا۔ قیمت بڑھے گی، دھرنا لگے گا، تھوڑی رعایت ملے گی، اور اگلی جنگ کا انتظار شروع ہو جائے گا۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







