نومبر 2007 کی ایک سرد شام کو ایک نوجوان سیاستدان، جو کرکٹ کے میدان سے سیاست کے میدان میں نیا نیا اترا تھا، مشرف کی ایمرجنسی کے خلاف پنجاب یونیورسٹی پہنچا۔ وہاں جن لوگوں کو وہ اپنا حلیف سمجھتا تھا، انہی کے ہاتھوں پٹا، چھت پر چڑھ کر جان بچائی، اور بالآخر گرفتار ہو کر ڈیرہ غازی خان جیل پہنچا۔ اس وقت شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ واقعہ ایک دن سیاسی داستانوں کا حصہ بن جائے گا۔ ایک "قربانی" کی علامت، جسے بار بار سنایا جائے گا۔

وقت گزرا، دن بدلے اور اٹھارہ سال بعد اسی جماعت کا ایک وزیراعلیٰ لاہور کی سڑکوں پر وہی پرانا ڈرامہ نئے سرے سے اسٹیج کر رہا ہے۔ بس اب اسکرپٹ رائٹر بدل گیا ہے، اور کیمرہ مین کی جگہ اسمارٹ فون نے لے لی ہے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ صاحب لاہور تشریف لائے۔ پنجاب حکومت نے پروٹوکول دیا۔ جو اپنی جگہ ایک ستم ظریفی ہے کہ جس صوبائی حکومت کے خلاف مورچہ لگانا تھا، اسی کی گاڑیاں آگے آگے چل رہی تھیں۔

 مگر پروٹوکول ملتے ہی موصوف کو یاد آیا کہ مظلومیت کا سرٹیفکیٹ لیے بغیر سیاست ادھوری ہے، سو سڑک پر بیٹھ گئے۔ کیمرے آن ہوئے، ویڈیو بنی، اور جب سین مکمل ہو گیا تو خود ہی روکی گئی گاڑیوں کو رستہ دلوا کر سفر جاری کر دیا۔ گویا مظلومیت کا وہ لمحہ صرف اتنی دیر کا مہمان تھا جتنی دیر موبائل کی ریکارڈنگ بٹن دبی رہی۔

پھر آیا دن کا دوسرا ایکٹ: سترہ دن پہلے ایک کارکن میلاد کی محفل میں پولیس کارروائی کے دوران مارا گیا، ایک ایسا سانحہ جس پر خاندان نے سترہ دن تک اپنی ہی قیادت سے یہی سوال پوچھا کہ کوئی پرسانِ حال کیوں نہیں آیا۔ سترہویں دن، جب کیمرے تیار اور موقع مناسب ٹھہرا، جناب پہنچ گئے۔ تاخیر سے سہی، مگر بروقت کنٹینٹ کے لیے۔

تیسرا ایکٹ اور بھی دلچسپ ہے۔ مال روڈ پر ہجوم اکٹھا کرنے کی کوشش، دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی، کارکنوں کی گرفتاری، اور پھر موصوف کا خود کو قیدی وین کے آگے پیش کرنا۔ بالکل اس انداز میں جیسے 2007 میں ایک اور رہنما نے خود کو تاریخ کے کیمرے کے سامنے پیش کیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت زخم حقیقی تھے، آج زخم کی جگہ صرف "اسٹیجنگ" نے لے لی ہے۔

اور پھر وہ لمحہ آیا جسے کہانی کا "ٹوئسٹ" کہنا چاہیے وہ ہے کہ پولیس نے وین چلا دی، صاحب اندر بیٹھے رہے، سوشل میڈیا پر "گرفتاری" کی خبر گردش کرنے لگی، مگر جیسے ہی وین لکشمی چوک پر رکی، موصوف فوراً نیچے اترے اور فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے۔ گویا ڈرامے کی اگلی قسط کی تیاری مکمل۔

سوال یہ ہے کہ جو قربانی 2007 میں حقیقی تھی، وہ 2026 میں کیوں ایک پرفارمنس بن چکی ہے؟ جس نسل نے تشدد اور جبر کو اپنی آنکھوں سے سہا، وہ کارکنوں کی قربانیوں کو غیر سنجیدہ نہیں لیتی۔ مگر جب قیادت خود اپنی مظلومیت کو "کنٹینٹ" میں تبدیل کر دے، تو کارکن کی حقیقی قربانی بھی محض ایک ری ٹویٹ کے قابل رہ جاتی ہے۔

تاریخ شاید اپنے آپ کو دہراتی نہیں، مگر سیاست دان ضرور اسے اپنی سہولت کے مطابق دوبارہ ایڈٹ کر لیتے ہیں۔ بس اس بار کیمرہ رول کرتا رہتا ہے، اور تماشائی، یعنی عوام، ہر قسط کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر