یہ فرق صرف پیٹرول کی قیمت کا نہیں بلکہ مختلف ٹیکسز، لیویز، کسٹمز ڈیوٹی، فریٹ اور دیگر مارجنز کا مجموعہ ہے، جو ہر لیٹر پیٹرول کی حتمی قیمت میں شامل کیے جاتے ہیں۔
حالیہ قیمتوں کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے جب کہ اس کی مقررہ قیمت 380 روپے 86 پیسے ہے۔ اس صورت میں مختلف لیویز، ٹیکسز اور مارجنز مجموعی طور پر تقریباً 116 روپے فی لیٹر بنتے ہیں۔
ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت کہاں کہاں جاتی ہے؟
دستیاب قیمت کے حساب سے پیٹرول کے ایک لیٹر میں 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 21 روپے 24 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے 48 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہیں۔
ان تمام اجزا کو بنیادی لاگت کے ساتھ جمع کیا جائے تو صارف تک پہنچنے والی حتمی قیمت تشکیل پاتی ہے۔
یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ ہر رقم حکومت کے خزانے میں نہیں جاتی۔ پیٹرولیم لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی سرکاری محصولات میں شامل ہیں، جب کہ IFEM، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور ڈیلرز مارجن قیمت کے دوسرے اجزا ہیں۔

ڈیزل کی قیمت میں کیا شامل ہے؟
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے ہے۔ اس کے علاوہ 74 روپے 28 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی عائد ہے۔
اس کے ساتھ 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 63 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل کیا گیا ہے۔
یوں ڈیزل کے معاملے میں بھی صارف کی ادا کردہ قیمت صرف درآمدی یا بنیادی تیل کی لاگت نہیں بلکہ متعدد مالی اجزا کا مجموعہ ہے۔
پیٹرولیم لیوی آخر ہے کیا؟
پیٹرولیم لیوی ایک فی لیٹر مقرر کی جانے والی حکومتی محصولی رقم ہے جو پیٹرولیم مصنوعات پر وصول کی جاتی ہے۔ یہ عام سیلز ٹیکس سے مختلف نوعیت کی وصولی ہے اور وفاقی حکومت کے لیے نان ٹیکس ریونیو کا اہم ذریعہ شمار ہوتی ہے۔
وفاقی بجٹ کی دستاویز کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی وصولی Petroleum Products (Petroleum Levy) Ordinance, 1961 کے تحت کی جاتی ہے۔ حکومت وقتاً فوقتاً فی لیٹر لیوی کی شرح مقرر کرتی ہے۔
پاکستان کوڈ میں بھی پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی سے متعلق قانون کا بنیادی حوالہ 1961 کے آرڈیننس سے ملتا ہے۔
یعنی پیٹرولیم لیوی کوئی حالیہ متعارف کرائی گئی رقم نہیں بلکہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی دہائیوں سے موجود ایک محصول ہے، البتہ اس کی شرح وقت اور حکومتی مالی ضروریات کے مطابق تبدیل ہوتی رہی ہے۔
حکومت پیٹرولیم لیوی سے کتنی رقم حاصل کرتی ہے؟
پیٹرولیم لیوی گزشتہ چند برسوں میں وفاقی حکومت کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 میں پیٹرولیم لیوی سے تقریباً 1,019 ارب روپے حاصل ہوئے، جب کہ مالی سال 2024-25 میں یہ وصولی بڑھ کر تقریباً 1,220 ارب روپے ہوگئی۔
مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے 1,468.395 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ پیٹرولیم لیوی اب وفاقی حکومت کے لیے محض ایک معمولی محصول نہیں رہی بلکہ قومی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔

کلائمیٹ سپورٹ لیوی کیا ہے؟
پٹرول کی قیمت میں شامل ایک نسبتاً نیا جزو کلائمیٹ سپورٹ لیوی ہے۔ حکومت نے مالی سال 2025-26 میں پیٹرول، ڈیزل اور بعض دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کاربن لیوی متعارف کرانے کی تجویز دی تھی، جسے اگلے مالی سال میں 5 روپے تک بڑھانے کی گنجائش رکھی گئی۔
بعد ازاں مالی سال 2026-27 میں اس رقم کو کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے عنوان سے 5 روپے فی لیٹر تک بڑھایا گیا۔
حکومت کی جانب سے اس نوعیت کی لیوی کا تعلق ماحولیاتی پالیسی اور کاربن اخراج سے جوڑا جاتا ہے، تاہم صارف کے لیے اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ یہ رقم بھی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں شامل ہو جاتی ہے۔
کسٹمز ڈیوٹی کیا ہوتی ہے؟
کسٹمز ڈیوٹی وہ محصول ہے جو درآمد شدہ اشیا پر حکومت وصول کرتی ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا ایک بڑا حصہ بیرونِ ملک سے حاصل کرتا ہے، اس لیے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے ڈھانچے میں کسٹمز ڈیوٹی بھی شامل ہوتی ہے۔
حالیہ دستیاب قیمت کے حساب سے پیٹرول پر 21 روپے 24 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی شامل ہے۔
IFEM کیا ہے اور صارف سے کیوں لیا جاتا ہے؟
Inland Freight Equalization Margin یا IFEM ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں تک پیٹرولیم مصنوعات پہنچانے کے اندرونِ ملک نقل و حمل کے اخراجات کو قیمتوں کے نظام میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں صرف اس وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بہت بڑا فرق نہ پیدا ہو کہ کسی علاقے تک ایندھن پہنچانے کی لاگت زیادہ ہے۔
وفاقی بجٹ کی وضاحت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے حساب میں ریفائنری یا درآمدی قیمت کے ساتھ IFEM، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا ڈسٹری بیوشن مارجن اور ڈیلرز کمیشن بھی شامل کیا جاتا ہے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنی اور ڈیلر کا مارجن کیا ہے؟
پیٹرول صارف تک پہنچنے سے پہلے مختلف کاروباری مراحل سے گزرتا ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل، ذخیرہ اور تقسیم کا انتظام کرتی ہیں جب کہ پیٹرول پمپس یا ڈیلرز انہیں صارفین تک فروخت کرتے ہیں۔
اسی لیے قیمت میں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور ڈیلرز مارجن بھی شامل ہوتا ہے۔
موجودہ فراہم کردہ قیمت کے حساب سے دونوں کا مارجن الگ الگ 7 روپے 87 پیسے اور 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے۔ یہ رقم حکومت کا ٹیکس نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور ریٹیل نظام سے وابستہ کاروباری مارجنز ہیں۔
پیٹرولیم لیوی پر جماعتِ اسلامی کا مؤقف
پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے خلاف جماعتِ اسلامی پاکستان نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حالیہ بیانات میں جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کو عوام پر اضافی مالی بوجھ قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا۔
جماعتِ اسلامی کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہِ راست صارفین کو منتقل ہونا چاہیے اور حکومت کو پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے بھاری رقم وصول کرنے کے بجائے ایندھن کی قیمت کم کرنی چاہیے۔
خیال رہے کہ حکومت کے مالیاتی نقطۂ نظر سے پیٹرولیم لیوی وفاقی آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کا ہدف بجٹ میں پہلے ہی شامل کیا جاتا ہے۔ اس لیے لیوی کم کرنے کا فیصلہ حکومت کے لیے صرف پیٹرول کی قیمت کا معاملہ نہیں بلکہ مجموعی مالیاتی انتظام سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پیٹرولیم لیوی اتنی اہم کیوں ہوگئی؟
پاکستان میں ٹیکس آمدن اور مجموعی سرکاری وسائل پر دباؤ کے باعث نان ٹیکس ریونیو کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پیٹرولیم لیوی اسی تناظر میں حکومت کے لیے ایک نسبتاً مستقل آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔
مالی سال 2024-25 میں اس مد سے تقریباً 1.22 ٹریلین روپے حاصل ہوئے، جب کہ مالی سال 2025-26 کے لیے بجٹ میں ہدف تقریباً 1.47 ٹریلین روپے رکھا گیا۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی کا حجم صرف پیٹرول کی قیمت پر اثر انداز ہونے تک محدود نہیں بلکہ وفاقی بجٹ کی آمدن کے بڑے ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے۔
کیا پیٹرول کی قیمت میں شامل ہر رقم حکومت کو ملتی ہے؟
اس سوال کا جواب ہے نہیں ۔ پیٹرولیم لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی سرکاری محصولات ہیں، جب کہ IFEM نقل و حمل کے اخراجات کی قیمت میں ایڈجسٹمنٹ ہے۔ اسی طرح آئل مارکیٹنگ کمپنی اور ڈیلر مارجنز متعلقہ کاروباری اداروں کے لیے مقررہ حصے ہیں۔
اس لیے اگر بنیادی قیمت اور صارف کی حتمی قیمت میں 130 روپے سے زیادہ کا فرق نظر آتا ہے تو اس پوری رقم کو حکومت کا ٹیکس قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اصل سوال صرف پیٹرول مہنگا ہونے کا نہیں
پیٹرول کی قیمت کا موجودہ ڈھانچہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صارف ایک لیٹر ایندھن کی صرف بنیادی قیمت ادا نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ مختلف حکومتی محصولات، نقل و حمل کے اخراجات اور سپلائی چین کے مارجنز بھی ادا کرتا ہے۔
ایک طرف حکومت کے لیے پیٹرولیم لیوی مالی وسائل کا اہم ذریعہ ہے اور بجٹ اہداف پورے کرنے میں اس کا کردار بڑھ رہا ہے، جب کہ دوسری طرف زیادہ لیوی کا براہِ راست اثر صارفین کے ایندھن کے اخراجات پر پڑتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی کی تاریخ 1961 کے قانون تک جاتی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسی لیے پیٹرول کی قیمت پر بحث صرف یہ سوال نہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کتنا مہنگا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ حتمی قیمت میں حکومت کے محصولات، ترسیل کے اخراجات اور مارکیٹ کے مختلف مارجنز کا حصہ کتنا ہے اور ان میں سے کون سی رقم کہاں جا رہی ہے۔
دھیان رہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً تبدیل کی جاتی ہیں۔ اس اسٹوری میں قیمتوں اور فی لیٹر اجزا کے لیے فراہم کردہ حالیہ دستاویزی اعداد استعمال کیے گئے ہیں، قیمتوں میں بعد کی تبدیلی کی صورت میں اعداد تبدیل ہو سکتے ہیں۔ 11 اگست 2026 کو حکومت نے موجودہ فیول قیمتیں برقرار رکھی تھیں۔







