لیکن سوال یہ ہے کہ یورپ اتنا بے بس کیوں ہوا؟
جواب سیدھا ہے یورپ میں صرف 19 فیصد لوگوں کے پاس اے سی ہے۔ امریکہ میں یہ تعداد 90 فیصد سے اوپر ہے۔
اب سمجھتے ہیں کہ گرمی کا آپ کے دماغ اور کام کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
21 ڈگری پر دماغ تیز چلتا ہے، کام اچھا ہوتا ہے، نیند پوری ہوتی ہے۔ 26 ڈگری پر بھی کام چلتا ہے۔ سائنٹسٹ کے مطابق 30 ڈگری کے بعد ایک حد آتی ہے جس کے بعد ہر ایک ڈگری اضافے پر آپ کی کارکردگی 3 فیصد گر جاتی ہے۔ 40 ڈگری کے بعد کام کرنا صحت کے لیے خطرناک ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی 40 فیصد سے زیادہ مزدور آبادی جس میں کسان ہیں مزدور ہیں ڈلیوری رائیڈرز ہیں روز اسی گرمی میں کام کرتے ہیں۔
ہلتھ انشورنس کمپنی ایلیانز کا اندازہ ہے کہ گرمی 2030 تک یورپ کی بڑی معیشتوں سے 600 ارب ڈالر سے زیادہ نکال لے گی۔ اور عالمی بینک کے مطابق پاکستان 2050 تک اپنی GDP کا 6.5 سے 9 فیصد صرف گرمی اور موسمی تبدیلی کی وجہ سے کھو دے گا۔ کراچی پہلے سے دنیا کے سب سے گرم بڑے شہروں میں شامل ہے۔
یہ کھیل 1960 میں ایک آدمی سمجھ گیا تھا۔ سنگاپور کے بانی لی کوان یو سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے ملک کی کامیابی کا راز کیا ہے تو انہوں نے کہا، ایئر کنڈیشننگ۔
ان کے مطابق اے سی تاریخ کی سب سے اہم ایجادات میں سے ایک ہے۔ وزیراعظم بنتے ہی انہوں نے پہلا کام سرکاری دفتروں میں اے سی لگوانا کیا تاکہ لوگ واقعی کام کر سکیں۔ سنگاپور 1960 میں ایک غریب ملک تھا، آج فی کس آمدن پاکستان سے 30 گنا زیادہ ہے۔
جو ملک آگے نکل گئے انہوں نے اے سی کو لگژری نہیں سمجھا انہوں نے اسے سڑک، بجلی اور انٹرنیٹ جتنا ضروری انفراسٹرکچر سمجھا۔
پاکستان میں اے سی لگانے کے مسائل حقیقی ہیں جیساکہ لوڈ شیڈنگ، مہنگی بجلی، کم آمدن۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ گرمی مفت نہیں آتی۔ اس کا بل ہوتا ہے خراب کام، خراب صحت اور کم پیداوار کی شکل میں۔






