اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 16.32 ڈالر یا 14.9 فیصد کمی کے بعد 92.95 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 18.16 ڈالر یا 16.1 فیصد کمی کے ساتھ 94.79 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ڈیڈ لائن دی تھی، بصورت دیگر شہری تنصیبات پر وسیع حملوں کی وارننگ دی گئی تھی۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی، جبکہ اس سے قبل انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو ایک پوری تہذیب تباہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو وہ بھی اپنی کارروائیاں روک دے گا اور ایرانی مسلح افواج کے تعاون سے آبنائے ہرمز میں دو ہفتوں کے لیے محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں کا آئندہ رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا مذاکرات کسی پائیدار معاہدے میں تبدیل ہوتے ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل معمول پر آتی ہے یا نہیں، جبکہ مذاکرات کے دوران اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

خلیجی ممالک کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ بعض ریاستوں نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ ہونے کے باوجود ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز کو بار بار دباؤ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، جس کے باعث منڈی میں خطرات کا عنصر برقرار رہے گا۔

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث مارچ میں تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا، جو تاریخ کی تیز ترین ماہانہ بڑھوتری میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق حتمی معاہدے کی تفصیلات کے پیش نظر طویل عرصے تک جغرافیائی و سیاسی خطرات قیمتوں پر اثر انداز رہ سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جسے انہوں نے مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد قرار دیا، اور ان کے مطابق فریقین مستقل امن معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایک مثبت آغاز ضرور ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی مراحل طے کرنا باقی ہیں۔