امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی پیش رفت، جنگ بندی کے اعلانات اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی نے تیل کی قیمتوں کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنگ سے پہلے، جنگ کے دوران اور مذاکرات کے بعد قیمتوں میں کتنا فرق آیا؟

جنگ سے پہلے تیل کی قیمت کتنی تھی؟

فروری 2026 کے آخری ہفتے تک عالمی منڈی نسبتاً پرسکون تھی۔ برینٹ خام تیل تقریباً 71 سے 72 ڈالر فی بیرل جب کہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) تقریباً 65 سے 66 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہو رہا تھا۔

سرمایہ کار اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر نظر رکھے ہوئے تھے، لیکن اس وقت تک کسی بڑے فوجی تصادم کا خدشہ عملی شکل اختیار نہیں کر پایا تھا۔

جنگ شروع ہوتے ہی منڈی میں کیا ہوا؟

28 فروری کے بعد حالات نے تیزی سے رخ بدلا۔ اسرائیلی اور امریکی کارروائیوں، ایرانی ردعمل اور آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے تیل کی منڈی میں خوف پیدا کر دیا۔ تاجروں کو خدشہ تھا کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہو گئی تو دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی خوف کے نتیجے میں برینٹ خام تیل 119 سے 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا جب کہ امریکی خام تیل بھی 115 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا۔ یہ کئی سالوں کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک تھی۔

قیمتیں اتنی زیادہ کیوں بڑھیں؟

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ حقیقی قلت نہیں بلکہ  رسک پریمیم  تھا۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ آبنائے ہرمز بند ہو سکتی ہے، ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی مزید سخت ہو سکتی ہے، خلیجی ریاستوں سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جنگ لبنان، عراق اور خلیج کے دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔

اسی وجہ سے منڈی نے مستقبل کے خطرات کو پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر لیا تھا۔

مذاکرات کا آغاز اور پہلی بڑی کمی

جون کے وسط میں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمتی فریم ورک کی خبریں سامنے آئیں تو منڈی نے فوری ردعمل دیا۔ سرمایہ کاروں نے اندازہ لگایا کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل گئی اور ایرانی تیل کی برآمدات بحال ہو گئیں تو سپلائی بحران کا خطرہ کم ہو جائے گا۔

15 جون کے بعد برینٹ تیل 84 ڈالر تک آ گیا جب کہ امریکی خام تیل تقریباً 81 ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ یعنی صرف چند ہفتوں میں تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے بعد کیا ہوا؟

22 جون کو سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد مزید پیش رفت سامنے آئی۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اسے تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کے لیے رعایتیں مل رہی ہیں جب کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے امکانات بھی روشن ہوئے۔

اس خبر کے بعد برینٹ تیل 79 ڈالر کے قریب آ گیا جبکہ امریکی خام تیل 75 سے 76 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔

حالیہ دنوں میں قیمتیں کتنی گر چکی ہیں؟

جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی۔ 24 اور 25 جون تک برینٹ خام تیل تقریباً 72 سے 73 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ امریکی خام تیل (WTI) تقریباً 69 سے 70 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔ یہ وہی سطح ہے جو تقریباً جنگ شروع ہونے سے پہلے دیکھی جا رہی تھی۔

مجموعی طور پر کتنی کمی ہوئی؟

اگر جنگ کے دوران بننے والی بلند ترین سطح کو بنیاد بنایا جائے تو برینٹ تیل تقریباً 120 ڈالر سے کم ہو کر 72 تا 73 ڈالر تک آ چکا ہے، یعنی تقریباً 47 ڈالر فی بیرل یا لگ بھگ 39 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اسی طرح امریکی خام تیل تقریباً 115 ڈالر سے گر کر 69 تا 70 ڈالر تک آ گیا ہے، یعنی تقریباً 45 ڈالر فی بیرل یا تقریباً 39 فیصد کمی ہوئی ہے۔

آبنائے ہرمز کا کردار کیوں اہم ہے؟

دنیا کے تقریباً 20 فیصد سمندری تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ جنگ کے دوران یہی راستہ سب سے بڑا خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔ اب جب ٹینکر ٹریفک دوبارہ بحال ہو رہی ہے اور روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچ رہا ہے تو سپلائی کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتیں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔

عالمی معیشت پر کیا اثر پڑا؟

تیل کی قیمتوں میں کمی نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی سہارا دیا ہے۔ توانائی کے اخراجات کم ہونے کی امید سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہوا ہے۔ کئی ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں جب کہ افراطِ زر پر بھی دباؤ کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق آئندہ 60 روزہ امریکا-ایران مذاکرات اس پوری کہانی کا فیصلہ کریں گے۔ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی رہتی ہے، ایرانی تیل کی برآمدات بحال ہوتی ہیں اور جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو برینٹ تیل 67 ڈالر تک اور امریکی خام تیل 62 ڈالر تک بھی جا سکتا ہے۔

اس کے برعکس  اگر مذاکرات ناکام ہوئے یا خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھی تو قیمتوں میں ایک اور بڑا اچھال بھی آ سکتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کی پیش رفت نے عالمی تیل منڈی کا رخ بدل دیا ہے۔ فروری کے آخر میں تقریباً 72 ڈالر سے شروع ہونے والا برینٹ تیل جنگ کے دوران 120 ڈالر تک پہنچا، مگر اب دوبارہ 72 تا 73 ڈالر کی سطح پر آ چکا ہے۔

اسی طرح امریکی خام تیل بھی جنگی بلند ترین سطح سے تقریباً 40 فیصد گر چکا ہے۔ اس وقت منڈی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا یہ کمی مستقل ثابت ہوگی یا آنے والے 60 دنوں میں مذاکرات کی ناکامی ایک نئی توانائی بحران کو جنم دے گی۔ فی الحال عالمی منڈیوں نے جنگ کے بجائے سفارت کاری پر شرط لگائی ہوئی ہے۔