پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا۔

خبر رساں اشاعتی ادارے بزنس ریکارڈر کے مطابق کاروبار کے ابتدائی لمحات میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 618 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 162875 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ تیزی اس وقت دیکھنے میں آئی جب عالمی مالیاتی ادارے کا وفد اسلام آباد میں موجود ہے۔ آئی ایم ایف مشن کی سربراہی پاکستان مشن چیف ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔ مشن کا مقصد توسیعی فنڈ سہولت کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے پہلے جائزے پر بات چیت کرنا ہے۔

مزید یہ کہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے باعث کئی کلیدی شعبوں میں خریداری دیکھنے میں آئی جن میں آٹو موبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری کے شعبے شامل ہیں۔ بڑی کمپنیوں میں اے آر ایل، حبکو، ماری، پی او ایل، پی ایس او، ایس این جی پی، ایس ایس جی سی، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل کے حصص مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 162257 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس دوران انڈیکس میں مجموعی طور پر 4220 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جو ہفتہ وار بنیادوں پر دو اعشاریہ چھ سات فیصد کے برابر ہے۔ معاشی اور سیاسی سطح پر مثبت پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

Featured image (3) (83)
 گزشتہ ہفتے بھی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ (تصویر: ایکسپریس نیوز)

عالمی سطح پر بھی بیشتر ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کے روز بہتری دیکھی گئی جبکہ امریکی ڈالر میں معمولی کمی واقع ہوئی۔ سرمایہ کاروں کی نظر امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے خدشات پر ہے جو بدھ سے شروع ہو سکتا ہے اگر بجٹ پر معاہدہ نہ ہو سکا۔ اسی روز نئے امریکی ٹیرف بھی نافذ ہونے کا امکان ہے۔

امریکی مارکیٹ میں سرمایہ کار اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو اکتوبر میں شرح سود میں کمی کر سکتا ہے جب کہ دسمبر میں مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واضع رہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو آئندہ دنوں میں مارکیٹ میں مزید بہتری کا امکان موجود ہے۔ وزارت خزانہ یا متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔