پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروبار کے آغاز سے ہی زبردست تیزی دیکھی گئی۔

خبر رساں اشاعتی ادارہ بزنس ریکارڈر کے مطابق صبح 10 بج کر 25 منٹ پر انڈیکس 533 اعشاریہ 52 پوائنٹس بڑھ کر 158570 اعشاریہ 89 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

تیزی کا رجحان مختلف شعبوں میں دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلرز سیمنٹ کمرشل بینکس آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں او ایم سیز بجلی کی پیداوار اور ریفائنری شامل ہیں۔ حبکو ماری او جی ڈی سی پی او ایل ایم سی بی اور این بی پی بھی مثبت زون میں رہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کا ایک وفد پچیس ستمبر 2025 کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ وفد سات ارب ڈالر کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے دوسرے ششماہی جائزے کے لیے بات چیت کرے گا۔ پاکستان نے مارچ اور جون دو ہزار پچیس کی سہ ماہیوں کے تمام سات کوانٹیٹیٹو پرفارمنس کرائیٹیریا پورے کر لیے ہیں جن میں خالص بین الاقوامی ذخائر اور سوآپ پوزیشنز شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا سلسلہ جاری رہا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں تین ہزار پانچ سو ستانوی اعشاریہ اٹھاون پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ 154439 اعشاریہ 69 پوائنٹس سے بڑھ کر 158037 اعشاریہ 37 پوائنٹس پر بند ہوا۔ انڈیکس نے ہفتے کے دوران 159337 پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی چھوئی جو اس سال کی نمایاں تیزی میں شامل ہے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں ملکی اور بین الاقوامی عوامل کی وجہ سے اضافہ ہوا۔

عالمی منڈی میں ایشیائی حصص بازار پیر کو قدرے اوپر گئے جبکہ ڈالر مستحکم رہا۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی حالیہ شرح سود میں کٹوتی کے بعد سرمایہ کار مالیاتی پالیسی کے مستقبل پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ورکر ویزوں پر امیگریشن سختی کے اقدامات نے مارکیٹ کی تیزی کو محدود رکھا۔

Featured image (1) (10)
عالمی مالیاتی فنڈ کا ایک وفد پچیس ستمبر 2025 کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ (تصور: جیو نیوز)

انڈیا کا بینچ مارک انڈیکس اس وقت نیچے آگیا جب امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ کمپنیوں سے نئے ایچ ون بی ورک ویز کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس وصول کی جائے گی۔ یہ اقدام ٹیکنالوجی شعبے کے لیے دھچکا ہے جو بھارت اور چین کے ماہر کارکنوں پر انحصار کرتا ہے۔

امریکا کے اسٹاک فیوچرز میں کمی دیکھی گئی۔ ایس اینڈ پی فیوچرز 0 اعشاریہ 1 فیصد نیچے رہے جبکہ یورپی فیوچرز بھی محتاط آغاز کے ساتھ تھے۔ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس 0 اعشاریہ 1 فیصد بڑھا۔ ٹوکیو کا نکئی انڈیکس 1 اعشاریہ 3 فیصد اوپر گیا اور تائیوان کے حصص ایک فیصد سے زائد بڑھ کر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کا 283 ارب ڈالر کا انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر جس کی آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ امریکہ سے آتا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے بگڑتے تعلقات کی وجہ سے قریبی مدت میں مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے وفد کے دورے کے بعد مالیاتی پروگرام کی پیشرفت پر بات چیت کی جائے گی اور توقع ہے کہ پاکستان کی اقتصادی کارکردگی مثبت رہے گی۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔