ایک بیان میں شیخ عمر ریحان نے کہا کہ ریفنڈز کی طویل عرصے سے عدم ادائیگی کے باعث گھی اور آئل انڈسٹری شدید مالی دباؤ اور لیکویڈیٹی کے مسائل کا شکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8 بی کے تحت صنعت کے اربوں روپے کے ریفنڈز ایف بی آر کے پاس واجب الادا ہیں، تاہم یہ رقم کافی عرصے سے التوا کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریفنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث مینوفیکچررز کے لیے روزمرہ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنا اور خام مال کی درآمدات کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انڈسٹری کی اپنی رقم ہے جو ٹیکس کی مد میں حکومت کے پاس جمع ہے، اس لیے صنعتی سرگرمیوں اور ملکی معیشت کو رواں رکھنے کے لیے یہ رقم فوری طور پر واپس کی جانی چاہیے۔

شیخ عمر ریحان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8 بی کے تحت ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی حد 90 فیصد سے بڑھا کر 95 فیصد کی جائے۔

انہوں نے حکومت اور وزارت خزانہ پر زور دیا کہ کاروباری آسانیوں اور صنعت کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے اس تجویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔

پی وی ایم اے کے چیئرمین نے کہا کہ گھی اور خوردنی تیل کی صنعت ملک میں غذائی تحفظ اور روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر حکومت نے ریفنڈز کی فوری ادائیگی اور ٹیکس قوانین میں نرمی سے متعلق مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو صنعت کی پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے منفی اثرات معیشت اور صارفین دونوں پر پڑیں گے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایف بی آر کو زیر التوا ریفنڈز کی جلد ادائیگی کے احکامات جاری کریں گے۔