پاکستان کا وفاقی بجٹ آنے والا ہے۔ اور اس بار صرف بجٹ سمجھنا کافی نہیں، اس کے پیچھے کی حقیقت سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ کیوں ہے۔
یہ قرضہ آیا کہاں سے؟
یہ سمجھنے کے لیے بجٹ کا بنیادی ڈھانچہ سمجھنا ضروری ہے۔ حکومت ہر سال ٹیکس اور دیگر ذرائع سے آمدنی اکٹھی کرتی ہے۔ اور اس سال وفاقی حکومت جو پیسے اکٹھے کر پائی ہے وہ تقریباً 11 ہزار 232ارب روپے ہے۔ لیکن یہاں حیران کن بات یہ ہے کہ کل خراچات جو حکومت کو کرنے ہیں وہ ہیں 17 ہزار 573 ارب روپے ہے۔ یعنی ہر سال ساڑھے 6 ہزار ارب روپے کا گھاٹا۔ اور یہ گھاٹا پورا ہوتا ہے مزید قرض اور یہ سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اب قرضے کا سود خود ایک بہت بڑا بوجھ بن چکا ہے۔ اس سال صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر 8 ہزار 207 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ یعنی حکومت کی پوری آمدنی کا تقریباً 50 فیصد صرف پرانے قرضوں کا سود چکانے میں چلا جاتا ہے۔ تعلیم کے لیے، صحت کے لیے، سڑکوں کے لیے جو بچتا ہے وہ اس کے بعد کا حساب ہے۔
یہ چکر کیسے چلتا ہے؟
اس کو ایک سادہ مثال سے سمجھتے ہیں۔ حکومت جو کہ خود امیر لوگوں پر مشتمل ہے کسی کے پاوور پلانٹس ہیں تو کسی شوگر ملز ہیں۔ یہ لوگ خود کو ہی سبسیڈیز دے دے کر امیر کرتے ہیں۔ کبھی شوگر ملز کو اس بات پر سبسیڈی مل جاتی کہ چینی زیادہ ہے پاکستان میں سیل نہیں ہو رہی کچھ پیسے حکومت سے کر لے سبسیڈیز کے نام پر پھر باہر بیچ دیتے ہیں۔ کچھ مہینے بعد وہی شوگر ملز والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں چینی کم پڑ رہی ہے پھر سبسیڈی لے کر باہر سے منگواتے ہیں۔
ایسے بہت سے اور فراڈز ہیں جس وجہ سے حکومت کی آمدنی کم پڑتی ہے، قرض لیتے ہیں، اگلے سال سود بڑھ جاتا ہے، سود چکانے کے لیے پھر قرض لیتے ہیں۔ ماہرین اسے ڈیٹ ٹریپ کہتے ہیں۔ یعنی قرضے کا وہ جال جس میں ایک بار پھنس جاؤ تو نکلنا آسان نہیں ہوتا۔
اس بار آنے والا بجٹ انہی سوالوں کا جواب دے گا کہ اس قرضے کو کم کیا جائے گا یا مزید بڑھے گا، ٹیکس کا بوجھ عام آدمی پر پڑے گا یا نہیں، اور ترقی کے لیے کچھ بچے گا یا سب کچھ پھر سود میں چلا جائے گا۔






