فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیا گیا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے 585 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ ٹیکس براہِ راست تنخواہوں سے کٹوتی کے ذریعے وصول کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے میں برآمد کنندگان سے 174 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا، جب کہ رئیل اسٹیٹ فروخت کنندگان سے 191 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا۔
جائیداد کی خریداری پر انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 236-K کے تحت 87 ارب روپے وصول کیے گئے، جو گزشتہ مالی سال کے 120 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہیں۔
گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے سب سے زیادہ 633 ارب روپے ٹیکس دیا pic.twitter.com/FeZG3tqPxS
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) July 4, 2026
دوسری جانب ریٹیل شعبے سے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں تقریباً 70 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے۔
ایف بی آر نے مالی سال 2025-26 میں مجموعی طور پر 13,010 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، جب کہ نئے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو ٹیکس ریلیف دینے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے کے لیے ٹیکس افسران اور شہریوں کے درمیان براہِ راست رابطہ ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی ٹیکس نظام میں سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ہے، کیونکہ ان کی آمدنی پر ٹیکس براہِ راست منبع پر ہی کاٹ لیا جاتا ہے، جب کہ دیگر کئی بڑے شعبوں کی ٹیکس ادائیگی اس سے کم رہی۔






