ذولفقاری نے مزید کہا کہ تہران ایک لیٹر تیل کو بھی آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکہ، اسرائیل اور ان کے شراکت داروں تک پہنچنے نہیں دے گا۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ’تیل کی فی بیرل قیمت 200 ڈالر تک پہنچنے کے لیے تیار ہو جائیں کیونکہ تیل کی قیمت کا انحصار علاقائی سلامتی پر منحصر ہے جسے آپ نے غیر مستحکم کیا ہے۔‘
دوسری جانب ایران جنگ کی وجہ سے تیل قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے ایسے میں جی سیون (G7) ممالک نے کہا ہے کہ وہ تیل کے ’سٹریٹجک ریزرو (ذخائر)‘ کو جاری کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
انٹرنیشنل انرجی ایسوسی ایشن (آئی ای اے) کے تمام ممبر ممالک پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی عالمی ہنگامی صورتحال کے لیے تیل کے ذخائر محفوظ رکھیں۔ یہ تقریباً 90 دن کی سپلائی جتنا ذخیرہ ہوتا ہے۔
لیکن یہ تیل کسی ایک جغرافیائی مقام پر محفوظ نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل، امریکا کے خلاف جنگ، ایران اتنا پر اعتماد کیوں ہے؟
شیل اور برٹش پیٹرولیم جیسی تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں برطانیہ کے آس پاس موجود ٹرمینلز اور ریفائنریوں میں سٹاک رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اس مقصد کے لیے تیل کہیں اور بھی رکھ سکتے ہیں۔
جب یہ ریزرو جاری کیا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اچانک مارکیٹ میں بڑی مقدار میں تیل آ جائے گا، بلکہ تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں ریفائنریوں کے لیے مارکیٹ میں مزید تیل دستیاب کر دیتی ہیں تاکہ وہ آرڈر دے سکیں۔







