مارکیٹ ذرائع کے مطابق مختلف صلاحیت کے سولر پینلز کی فی پلیٹ قیمت میں 7 ہزار سے 9 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد 585 واٹ کا سولر پینل، جو چند روز قبل تقریباً 18 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 27 ہزار روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
اسی طرح 645 واٹ کے سولر پینل کی قیمت 22 ہزار روپے سے بڑھ کر 31 ہزار 200 روپے ہو گئی ہے، جب کہ 720 واٹ کے سولر پینل کی قیمت 25 ہزار روپے سے بڑھ کر 33 ہزار 500 روپے تک جا پہنچی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ میں سولر سیکٹر سے متعلق ممکنہ پالیسی تبدیلیوں اور ٹیکس اقدامات کی قیاس آرائیوں کے باعث قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے نئے سولر سسٹمز کی تنصیب مزید مہنگی کر دی ہے۔
دوسری جانب کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف سولر پینلز ہی نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں انورٹرز اور دیگر متعلقہ آلات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان موجود ہے، جس سے سولر توانائی کے منصوبوں کی مجموعی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔






