لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیب ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے لیے جامع اصلاحات متعارف کروا رہا ہے، جن کے تحت ہاؤسنگ اور ریئل اسٹیٹ منصوبوں میں غیر قانونی اور غیر شفاف طریقہ کار کا خاتمہ کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور نیب کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے گئے، جب کہ چیئرمین نیب نے لاہور چیمبر میں قائم نیب ایگزیکٹو فیسلیٹیشن آفس کا افتتاح کیا اور چیمبر کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ آئندہ ریئل اسٹیٹ منصوبوں میں پلاٹس اور ملکیت کی منتقلی کا نظام ریگولیٹر کے ذریعے انجام پائے گا، نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور تمام ادائیگیاں بینکاری ذرائع سے کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم میں فروخت ہونے والے پلاٹس کی تعداد اصل دستیاب پلاٹس سے زیادہ نہیں ہو سکے گی اور ہر پلاٹ کی باقاعدہ شناخت موجود ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تمام متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی منظوریوں کے لیے ون ونڈو سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ کاروباری طبقے اور ڈویلپرز کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نذیر احمد کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت آئے گی، فراڈ کا خاتمہ ہوگا اور رہائشی شعبے کی ترقی کو نئی سمت ملے گی۔

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ لاہور چیمبر کاروباری برادری اور ریاستی اداروں کے درمیان مثبت روابط اور باہمی اعتماد کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے چیئرمین نیب کی آمد کو کاروباری برادری کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نیب اور نجی شعبے کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے اور شفاف نظام کے قیام کے لیے نیب کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب صرف احتساب کا ادارہ نہیں بلکہ قومی اصلاح کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے جو پاکستان میں قانون کی بالادستی اور شفافیت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ کاروباری برادری شفافیت، احتساب اور قانون کی حکمرانی کی مکمل حامی ہے کیونکہ ایک منصفانہ اور شفاف نظام ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔

اجلاس میں سینئر نائب صدر لاہور چیمبر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، سابق صدور میاں انجم نثار اور محمد علی میاں، ڈی جی نیب مرزا فاران بیگ، ڈائریکٹر نیب نسیم احمد خان، سابق سینئر نائب صدر خالد عثمان، سابق نائب صدر حارث عتیق، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور کاروباری برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ڈی جی نیب مرزا فاران بیگ نے کہا کہ نیب اور کاروباری برادری کے درمیان قریبی رابطہ نظام میں شفافیت اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی تعاون اور بروقت رابطہ کاروباری مسائل کے حل کو مزید مؤثر بناتا ہے۔

چیئرمین نیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیب کاروباری برادری کو پاکستان کی معیشت کا انجنِ نمو سمجھتا ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں نیب نے مجموعی طور پر 880 ارب روپے کی ریکوری کی، جبکہ موجودہ دور میں یہ حجم بڑھ کر 15 ہزار 400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ 48 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی بھی واگزار کرائی گئی ہے۔

نذیر احمد نے کہا کہ کراچی میں تقریباً 10 کھرب روپے مالیت کی سرکاری زمین کی نشاندہی کی گئی ہے، جب کہ پنجاب میں سرکاری اثاثوں کی ریکوری کے لیے خصوصی اقدامات جاری ہیں، جن کے تحت اربوں ڈالر مالیت کی سرکاری اراضی کی نشاندہی اور واگزاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب تشہیر کے بجائے خاموش اور مؤثر کارروائی پر یقین رکھتا ہے اور ہاؤسنگ اسکیموں و ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ہونے والے بڑے فراڈز کے خاتمے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ ان اصلاحات کے تحت جائیدادوں کی خرید و فروخت کا نظام شفاف بنانے، نقد لین دین کے خاتمے، فائل سسٹم کے بتدریج خاتمے اور سہ فریقی لین دین کے نظام کے نفاذ پر کام جاری ہے تاکہ ایک منظم، شفاف اور محفوظ ریئل اسٹیٹ نظام قائم کیا جا سکے۔

چیئرمین نیب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نیب اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ کاروباری برادری کے مسائل کے حل، شفافیت کے فروغ اور بہتر کاروباری ماحول کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔