تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ داخلہ منگل کے روز کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور اور بزنس کمیونٹی سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ بیرونِ ملک موجود رقم میں سے اگر 20 سے 30 فیصد بھی واپس لے آئیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ انہوں نے تجویز دی کہ بجٹ سے قبل ہدف مقرر کر کے کم از کم 10 ارب ڈالر واپس لائے جا سکتے ہیں اور یہ کام ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری پر کئی گنا منافع حاصل ہوتا ہے، جو دنیا کے دیگر ممالک میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس لیے کاروباری افراد کو سازگار ماحول فراہم کرنا نہایت ضروری ہے، اور حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرے گی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمیں تیس سے چالیس سال پرانی سوچ سے باہر نکلنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری شخصیات کے لیے علیحدہ پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز وزیراعظم کو دی جائے گی تاکہ انہیں ویزا مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بزنس فرینڈلی ماحول بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو اسے اپنی ناکامی تصور کریں گے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے کی سطح پر بھی اصلاحات کی جائیں گی اور اسے بزنس فرینڈلی بنایا جائے گا۔ ہزاروں انکوائریز اور کیسز کو مکمل کر کے نمٹایا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر جو کہتے ہیں، وہ پورا کرتے ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف بھی اپنے وعدوں کی تکمیل کرتے ہیں۔