تفصیلات کے مطابق وزارتِ خزانہ آج مالی سال 2025-26 کا اقتصادی جائزہ جاری کرے گی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شرحِ نمو، ٹیکس وصولیوں اور دیگر اہم اقتصادی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکے۔

دستاویز کے مطابق مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد رہی، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث اپریل اور مئی میں افراطِ زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جب کہ مئی میں مہنگائی کی شرح 11.66 فیصد تک پہنچ گئی۔

زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو 4.5 فیصد کے ہدف سے کم رہی، اگرچہ چاول، گندم، گنا اور مکئی سمیت اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔

صنعتی شعبے کی کارکردگی بھی توقعات سے کم رہی اور 4.30 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.51 فیصد شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی، جب کہ خدمات کے شعبے نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد شرحِ نمو حاصل کی۔

رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا اور جولائی سے مئی تک یہ 38 ارب ڈالر رہیں، جو جون کے اختتام تک 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

برآمدات کا سالانہ ہدف 35.3 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا، تاہم 11 ماہ کے دوران برآمدات 28 ارب ڈالر تک محدود رہیں، جب کہ درآمدات 65.2 ارب ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں 63 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔

اقتصادی جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں کا حجم 14 ہزار 799 ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے۔