تفصیلات کے مطابق ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹیکسوں کا بڑا حصہ شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے مطابق شہری ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 157 روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جن میں 107 روپے صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح پٹرول کی قیمت کا بڑا حصہ اصل تیل کے بجائے ٹیکسز پر مشتمل ہے۔

دستاویزات کے مطابق فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں 24 روپے 12 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 7 روپے 52 پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع اور 8 روپے 64 پیسے پمپ ڈیلرز کا کمیشن بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق پٹرولیم لیوی ایک اضافی ٹیکس ہے جو حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں شامل کر کے عوام سے وصول کرتی ہے،اور اس کا براہِ راست تعلق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سے نہیں ہوتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس مد میں ماہانہ تقریباً 120 ارب روپے وصول کر رہی ہے۔

ابتدائی طور پر اس لیوی کا مقصد ملک میں ریفائنری سہولیات کی بہتری اور پیٹرولیم صنعت کی ترقی بتایا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے واضح عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کے مطابق عوام ایک لیٹر پٹرول پر سو روپے سے زائد لیوی ادا کر رہے ہیں، جبکہ حکومت ایک سال میں 1234 ارب روپے اس مد میں جمع کر چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں لیوی میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں 25 اپریل کو مزید 26 روپے 77 پیسے اضافہ کیا گیا، جس سے لیوی بڑھ کر 107 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ ان اضافوں کا براہِ راست اثر عام شہری کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔

حکومت ان اقدامات کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط اور مالیاتی اہداف سے جوڑتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا اصل بوجھ عوام پر ہی پڑ رہا ہے، جبکہ ریلیف کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔

اس وقت حکومت صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 120 ارب روپے ماہانہ وصول کر رہی ہے، جبکہ سالانہ ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔ ماضی میں یہی لیوی تقریباً 30 روپے فی لیٹر تھی، جو بڑھ کر 50 روپے ہوئی اور اب 100 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومتی آمدن میں اضافے کے باوجود عوام کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا اور یہ بوجھ کب تک عام شہری ہی اٹھاتے رہیں گے۔