سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے 11 ماہ، یعنی جولائی سے مئی تک، وفاقی بجٹ خسارہ 33 کھرب 40 ارب روپے یا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد تک محدود رہا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت صوبوں نے اسی عرصے میں 13 کھرب 10 ارب روپے کا سرپلس ریونیو پیدا کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر 20 کھرب 30 ارب روپے، یعنی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک آ گیا۔
حکومت نے پورے مالی سال کے لیے مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3 فیصد، یا 37 کھرب 70 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا، جب کہ ابتدائی تخمینہ 3.9 فیصد یا 50 کھرب 30 ارب روپے تھا۔
اگرچہ وزارت خزانہ نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے حتمی مالیاتی اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے، تاہم پہلے 11 ماہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غیر ٹیکس آمدنی کی تین بڑی مدات نے قومی خزانے کو نمایاں سہارا دیا۔
ان مدات میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں، جن سے مجموعی طور پر 48 کھرب 20 ارب روپے حاصل ہوئے، جب کہ پورے مالی سال کے لیے ان کا ہدف 51 کھرب 40 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ’روزانہ کی بنیاد پر لوٹ مار‘، حافظ نعیم الرحمان کی پیٹرول کی قیمتیں تعین کرنے کی تجویز پر شدید تنقید
اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی مد میں 24 کھرب 28 ارب روپے، پیٹرولیم لیوی سے 14 کھرب 32 ارب روپے، جب کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے 45 ارب 96 کروڑ 80 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
دوسری جانب ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 112 کھرب 28 ارب روپے کے ٹیکس جمع کیے، جب کہ قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بڑھ کر 61 کھرب 63 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔
سرکاری دستاویزات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے مختص تمام فنڈز مکمل طور پر استعمال کر لیے گئے ہیں۔







