وزارتِ اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق معاہدوں میں کراچی۔روہڑی سیکشن آف مین لائن-ون (ایم ایل-1) کے لیے 10 ملین ڈالر کی پروجیکٹ ریڈینس فنانسنگ، کوئٹہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کے لیے 3.8 ملین ڈالر کی فنانسنگ، جبکہ بلوچستان واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ سیکٹر پروجیکٹ کے لیے 48 ملین ڈالر کی اضافی معاونت شامل ہے۔

حکام کے مطابق یہ منصوبے رابطہ کاری، پبلک ٹرانسپورٹ اور پانی کے وسائل کی بہتری کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں، جو ملک میں بنیادی سہولیات کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن محمد حمیر کریم نے اے ڈی بی کو پاکستان کا قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے پاکستان کی طویل المدتی اور پائیدار ترقی میں اہم پیش رفت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے بلوچستان میں زرعی پیداوار بڑھانے اور کوئٹہ کی شہری انفراسٹرکچر ضروریات پوری کرنے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے بلوچستان سے متعلق منصوبوں کو خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا، جب کہ ایم ایل-1 منصوبے کو ریلوے کی جدیدیت کی جانب ایک بڑا قدم کہا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اے ڈی بی اپنی معاونت کو پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق جاری رکھے گا۔