سرکاری اعداد و شمار اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق 2016 میں پاکستان کا مجموعی قرضہ تقریباً 19 ہزار ارب روپے تھا۔ اس وقت وفاقی حکومت اپنے ٹیکس محصولات کا لگ بھگ 41 فیصد صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے خرچ کر رہی تھی، یعنی عوام کے دیے گئے ہر 100 روپے میں سے 41 روپے سود کی نذر ہو جاتے تھے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران مختلف حکومتوں نے بجٹ خسارے پورے کرنے کے لیے مسلسل قرضے لیے، جس کے نتیجے میں 2026 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ 80 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ اس اضافے کے ساتھ قرضوں پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق سود کی ادائیگی کی مد میں اخراجات اب آٹھ ہزار ارب روپے سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کے دیے گئے ہر 100 روپے ٹیکس میں سے تقریباً 70 سے 80 روپے صرف پرانے قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق جب بجٹ کا اتنا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں صرف ہو جائے تو ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔ دفاعی اخراجات، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی کے بعد سڑکوں، ڈیموں، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے نسبتاً کم رقم بچتی ہے۔
اسی وجہ سے متعدد ترقیاتی منصوبے فنڈز کی کمی کا شکار رہتے ہیں اور کئی منصوبے برسوں تک مکمل نہیں ہو پاتے۔ بجٹ خسارے کے دباؤ میں حکومتیں اکثر سب سے پہلے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کرتی ہیں۔
ماہرین ایک اور مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں جسے کراؤڈنگ آؤٹ ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔ جب حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید وسائل درکار ہوتے ہیں تو وہ بیرونی ذرائع کے بجائے مقامی کمرشل بینکوں سے قرض لیتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مقامی بینکوں کے اثاثوں کا 70 فیصد سے زائد حصہ حکومتی سیکیورٹیز اور قرضوں میں لگا ہوا ہے۔ بینکوں کے لیے حکومت کو قرض دینا نسبتاً محفوظ اور منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث نجی شعبے اور عام شہریوں کو قرضوں کی فراہمی محدود ہو جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کا حجم جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ دوسری جانب اگر کسی شہری کو قرض مل بھی جائے تو بلند شرحِ سود اس کی واپسی کو مشکل بنا دیتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک ایک ایسے چکر میں پھنس چکا ہے جہاں ٹیکس آمدن کا بڑا حصہ قرضوں کے سود میں خرچ ہوتا ہے، پھر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید قرض لیا جاتا ہے، جبکہ بینک نجی شعبے کے بجائے حکومت کو قرض دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔
بجٹ کی تیاری کے عمل کے دوران ایک بار پھر یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ عوام سے وصول کیے جانے والے ٹیکس کا کتنا حصہ براہِ راست عوامی فلاح اور ترقی پر خرچ ہو رہا ہے اور کتنا حصہ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔







