ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ ٹیکس اصلاحات نافذ ہو جاتی ہیں تو ان کا اثر صرف لگژری میک اپ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ روزمرہ استعمال کی متعدد مصنوعات بھی اس کی زد میں آ سکتی ہیں۔

حکومت کی توجہ کاسمیٹکس سیکٹر پر کیوں؟

حکومت کو آئندہ مالی سال میں محصولات بڑھانے کا چیلنج درپیش ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی جانب سے بھی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں دی گئی رعایتوں کو محدود کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں کاسمیٹکس اور پرسنل کیئر انڈسٹری کو ایک ایسے شعبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں سے اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کیے جانے پر غور کیا گیا، جس کا اطلاق مقامی طور پر تیار ہونے والی متعدد کاسمیٹک اور پرسنل کیئر مصنوعات پر بھی ہو سکتا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق بظاہر ایک فیصد اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، تاہم جب اسے پیداواری لاگت، سپلائی چین اور مارکیٹنگ اخراجات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو اس کا اثر صارفین کی جیب پر نمایاں ہو سکتا ہے۔

درآمدی برانڈز پر دوہرا دباؤ

سب سے زیادہ اثر ان صارفین پر پڑنے کا امکان ہے جو بین الاقوامی برانڈز استعمال کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر معروف بیوٹی برانڈز جیسے MAC Cosmetics، Sephora، Maybelline New York اور L Oréal Paris کی مصنوعات پہلے ہی درآمدی ڈیوٹیوں اور دیگر محصولات کے باعث مقامی مارکیٹ میں نسبتاً مہنگی سمجھی جاتی ہیں۔

تجارتی حلقوں کے مطابق اگر نئے بجٹ میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے تو درآمد شدہ لپ اسٹکس، سیرمز، فاؤنڈیشنز اور دیگر سکن کیئر مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض مصنوعات پر مختلف اقسام کے ٹیکس اور ڈیوٹیز ملا کر مجموعی ٹیکس بوجھ اصل قیمت کے تقریباً نصف تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ مصنوعات متوسط طبقے کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گی۔

کیا صارفین مقامی برانڈز کی طرف منتقل ہوں گے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے بعد صارفین کا ایک بڑا حصہ مقامی برانڈز کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی کاسمیٹکس انڈسٹری گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور متعدد مقامی کمپنیاں سکن کیئر، ہیئر کیئر اور میک اپ کے شعبوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہیں۔

تاہم صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مقامی برانڈز بھی مکمل طور پر بیرونی منڈیوں سے آزاد نہیں ہیں۔

کاسمیٹکس کی پیکجنگ، خوشبوؤں، فعال کیمیائی اجزا اور دیگر خام مال کا بڑا حصہ اب بھی درآمد کیا جاتا ہے۔ اگر درآمدی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر مقامی مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

بعض صنعتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ پیداواری لاگت بڑھنے کی صورت میں مقامی کمپنیوں کو بھی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 5 سے 10 فیصد تک اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

غیر ضروری یا روزمرہ ضرورت؟

کاسمیٹکس پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ مصنوعات بنیادی ضروریات میں شامل نہیں ہوتیں، اس لیے ان پر زیادہ محصولات وصول کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم اس نقطۂ نظر سے سب متفق نہیں۔

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ذاتی نگہداشت، صفائی اور سکن کیئر کی متعدد مصنوعات روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق شیمپو، سن اسکرین، فیس واش اور بنیادی سکن کیئر مصنوعات کو مکمل طور پر لگژری اشیا قرار دینا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔

محصولات کا بوجھ کس پر پڑتا ہے؟

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں بالواسطہ ٹیکسوں کا بڑا حصہ بالآخر صارفین ادا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت محصولات بڑھانے کے لیے سیلز ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹیوں پر زیادہ انحصار کرتی ہے تو اس کا اثر براہِ راست مارکیٹ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

اسی وجہ سے ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا محصولات بڑھانے کے لیے ایسے شعبوں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جن کا بوجھ براہِ راست عام شہریوں پر منتقل ہو جاتا ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور دستاویزی معیشت کو فروغ دینے جیسے اقدامات نسبتاً سست رفتار رہتے ہیں۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

بجٹ کی حتمی منظوری اور مالیاتی بل کے نفاذ کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کاسمیٹکس اور پرسنل کیئر مصنوعات پر ٹیکسوں میں کتنا اضافہ کیا جاتا ہے اور اس کے اثرات کس حد تک صارفین تک منتقل ہوتے ہیں۔

تاہم موجودہ تجاویز نے بیوٹی اور ذاتی نگہداشت کی صنعت سے وابستہ کاروباری حلقوں اور صارفین دونوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

اگر مجوزہ ٹیکس اصلاحات نافذ ہو جاتی ہیں تو پاکستان میں سکن کیئر اور میک اپ کی خریداری مزید مہنگی ہو سکتی ہے، اور بہت سے صارفین کو اپنی پسندیدہ مصنوعات کے بجائے نسبتاً کم قیمت متبادل تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں۔