خبررساں ادارے العربیہ کی رپورٹ کے مطابق پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا کہ مارکیٹ کی فوری تشویش یہ ہے کہ اگر ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ کیا یا آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تو روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمت 2.61 ڈالر یا 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ عالمی معیاری وقت کے مطابق دو بج کر چار منٹ پر 71.01 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو یکم اگست کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جنوری کے معاہدے میں 16 فیصد سے زائد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت 2.54 ڈالر یا 4 فیصد اضافے کے ساتھ 65.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل ڈبلیو ٹی آئی فیوچر 65.80 ڈالر فی بیرل کی سطح تک جا پہنچا تھا، جو چار ماہ کی بلند ترین سطح ہے، جب کہ ماہانہ بنیادوں پر اس میں 14 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو جولائی 2023 کے بعد سب سے زیادہ ہو گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں اور خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے ذریعے تہران پر اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
HAPPENING NOW 🔴 Oil is reacting exactly like a geopolitical barometer.
— Alessandro (@MacroMornings) January 29, 2026
WTI just ripped toward ~$65/bbl (printing around $64.9) - the highest level since Sep 29 - and the chart shows a clean, relentless push higher from the low-60s with almost no meaningful pullback.
𝐓𝐡𝐞… pic.twitter.com/xz8QsJy2HX
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بعض امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایسے اختیارات پر غور کر رہے ہیں جن میں ایرانی سیکیورٹی فورسز اور اعلیٰ قیادت پر ٹارگٹ حملے شامل ہو سکتے ہیں، تاکہ ایرانی حکام پر دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔
یاد رہے کہ اوپیک کے چوتھے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک ایران کی یومیہ پیداوار تقریباً 3.2 ملین بیرل ہے۔
دوسری جانب قازقستان کے تنگیز آئل فیلڈ میں گزشتہ ہفتے بجلی کی خرابی کے باعث مبینہ طور پر لگنے والی آگ سے تیل کی پیداوار متاثر ہوئی تھی، تاہم پیداوار مرحلہ وار دوبارہ شروع کی جا رہی ہے اور ایک ہفتے کے اندر مکمل بحالی کی توقع ہے۔
اسی طرح امریکا میں بھی دنیا کے سب سے بڑے تیل اور مائع قدرتی گیس پیدا کرنے والے شعبے میں سرد موسم اور طوفان فرن کے بعد بند کیے گئے کنوؤں کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔







