جاری کردہ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی، خواہ وہ یو ایس ڈی ٹی (USDT) ہو یا کسی بھی نوعیت کا دوسرا کرپٹو ٹوکن، اس کی موجودہ حیثیت محض ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں درج اعداد و شمار تک محدود ہے۔ شرعی اعتبار سے اسے ایسی مالی حیثیت حاصل نہیں جس کی بنیاد پر اشیا کی خرید و فروخت کو جائز قرار دیا جا سکے۔
یہ فتویٰ ایک شہری کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جاری کیا گیا، جس میں اس نے بتایا تھا کہ اس نے دو کتابیں کرپٹو ٹوکن اور یو ایس ڈی ٹی کے ذریعے خریدی ہیں۔ اس نے دریافت کیا کہ آیا یہ خریداری شرعاً درست ہے، اور اگر ایسا نہیں تو اس صورت میں اس پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
سوال میں ایک اور معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا، جس میں ایک آن لائن تعلیمی کورس کی خریداری کا ذکر کیا گیا۔ سوال کنندہ کے مطابق کورس فروخت کرنے والا شخص اس مواد کو فروخت کرنے کا مجاز نہیں تھا، کیونکہ اصل مالک نے نہ تو اس کی نقل تیار کرنے، نہ اسے محفوظ رکھنے اور نہ ہی دوبارہ فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس کے باوجود مذکورہ شخص نے کورس کی کاپی بنا کر اسے مختلف افراد کو فروخت کرنا شروع کر دیا۔
مفتی تقی عثمانی نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی گئی کتابوں کی خریداری شرعاً درست نہیں، لہٰذا خریدی گئی کتابیں فروخت کنندہ کو واپس کر دی جائیں۔ اسی طرح غیر مجاز طریقے سے فروخت کیے جانے والے تعلیمی کورس کی خریداری بھی ناجائز قرار دی گئی، کیونکہ یہ نہ صرف شرعی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ قانونی طور پر بھی دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔
فتویٰ میں مزید ہدایت کی گئی کہ ایسے غیر مجاز طریقے سے حاصل کیے گئے کورس یا ڈیجیٹل مواد سے کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ اگر یہ مواد موبائل فون، کمپیوٹر یا کسی دوسرے ڈیجیٹل ذریعے میں محفوظ ہے تو اسے مستقل طور پر حذف کر دیا جائے تاکہ ناجائز استعمال سے اجتناب کیا جا سکے۔
ادھر مفتی محمد تقی عثمانی کے صاحبزادے حسن عثمانی نے بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس فتویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتویٰ واقعی مفتی تقی عثمانی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور اس کی نسبت درست ہے۔
مزید پڑھیں: ’انویسٹ پاک‘ پورٹل کا افتتاح: پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، وزیر خزانہ
واضح رہے کہ کرپٹو کرنسی کے شرعی اور قانونی پہلوؤں پر مختلف ممالک میں علما، ماہرینِ معاشیات اور مالیاتی اداروں کے درمیان بحث جاری ہے۔ بعض حلقے مخصوص شرائط کے ساتھ اسے قابلِ قبول قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر علما اور ماہرین اس کی نوعیت، قیمت کے شدید اتار چڑھاؤ اور قانونی حیثیت کے باعث احتیاط کی رائے دیتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کا حالیہ فتویٰ بھی اسی بحث کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں موجودہ معلومات کی بنیاد پر کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کو شرعاً ناجائز قرار دیا گیا ہے۔







