لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ اور نائب صدر خرم لودھی نے بجٹ پر اپنے ردعمل میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف اقدامات کو سراہا، تاہم کہا کہ ملک کی طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے صنعت، زراعت، ایس ایم ایز اور آئی ٹی سیکٹر جیسے کلیدی شعبوں پر مزید توجہ درکار ہے۔ ان کے مطابق یہ شعبے برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے بنیادی محرک ہیں، جن کے لیے واضح اور جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔

چیمبر کے عہدیداران نے آبی ذخائر اور ڈیمز کے لیے 109 ارب روپے کی مختص رقم کو موجودہ ضروریات کے تناظر میں ناکافی قرار دیا۔

انہوں نے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حوالے سے کہا کہ ریونیو میں بہتری کے لیے ٹیکس نیٹ کی توسیع پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سماجی تحفظ کے ساتھ ساتھ ہنرمندی اور انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانے کی تجویز بھی دی۔

لاہور چیمبر نے سیکشن 7E کے خاتمے، پراپرٹی ٹرانزیکشن ٹیکس میں کمی، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف، برآمدی شعبے کے لیے ٹیکس میں کمی اور ٹیکس نظام میں بہتری کے اقدامات کو مثبت قرار دیا۔

صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ یہ بجٹ مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس دہندگان کے لیے سہولتیں اور نظام کی دستاویزی بہتری قابلِ ستائش ہے، تاہم صنعتی پیداوار، برآمدات اور مجموعی معاشی نمو کے لیے مزید پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔

سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ نے کہا کہ پائیدار مالیاتی نظام کے لیے ٹیکس نیٹ کی توسیع ناگزیر ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن اور فیس لیس نظام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر دستاویزی معیشت کو بھی نظام میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس کا دائرہ منصفانہ طور پر وسیع ہو سکے۔

نائب صدر خرم لودھی نے کہا کہ بجٹ میں متعدد مثبت اقدامات موجود ہیں، تاہم ایس ایم ایز اور صنعتی شعبے کے لیے مزید جامع اصلاحات کاروباری اعتماد میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے توانائی کی لاگت میں کمی، سستے مالی وسائل کی فراہمی اور ریگولیٹری اصلاحات پر بھی زور دیا۔

لاہور چیمبر کے عہدیداران نے امید ظاہر کی کہ پارلیمانی بحث کے دوران کاروباری برادری کی تجاویز اور تحفظات کو سنجیدگی سے مدنظر رکھا جائے گا۔