بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ "بنیان مرصوص" میں کامیابی پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور گزشتہ سال بھارت کو مؤثر جواب دیا گیا۔ ان کے مطابق آج دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے اور متعدد ممالک پاکستانی لڑاکا طیاروں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات دفاعی معاہدوں کے ذریعے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو مجموعی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
پنشن کی مد میں مجموعی طور پر 1 ہزار 169 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں 822 ارب روپے فوجی پنشن اور 272 ارب روپے سول پنشن کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف شعبوں میں سبسڈی کی فراہمی کے لیے 1 ہزار 91 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ کے مطابق سول حکومت کے انتظامی اخراجات کے لیے 1 ہزار 71 ارب روپے جبکہ ہنگامی اور غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
جاری اخراجات کا مجموعی حجم 17 ہزار 495 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 1 ہزار 50 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور دیگر ترقیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ کا مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ، مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانا اور محصولات میں بہتری لانا ہے۔
گزشتہ سال کا بجٹ کتنا تھا؟
مالی سال 2025-26 کے لیے وفاقی حکومت نے تقریباً 18.9 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا تھا، جو اس وقت پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا وفاقی بجٹ تھا۔
اس بجٹ میں حکومت کی توجہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے، ٹیکس آمدن بڑھانے، بجلی اور گیس کے شعبے میں اصلاحات لانے اور مالی خسارہ کم کرنے پر مرکوز تھی۔
گزشتہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ میں اضافہ کیا گیا، پیٹرولیم لیوی بڑھائی گئی اور کئی شعبوں کو دی جانے والی مراعات محدود کر دی گئیں۔ اب آنے والا بجٹ انہی معاشی پالیسیوں کا اگلا مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔
نئے بجٹ کا حجم کتنا ہوگا؟
ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی بجٹ کا حجم تقریباً 17.5 کھرب روپے رکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ یہ گزشتہ سال کے بجٹ سے کچھ کم دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی ایک بڑی وجہ حکومتی اخراجات کی نئی ترجیحات اور ترقیاتی منصوبوں میں محتاط حکمت عملی ہے۔
قرضوں پر سود اب بھی سب سے بڑا خرچ
نئے بجٹ کی سب سے اہم اور تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا سب سے بڑا خرچ اب بھی قرضوں پر سود کی ادائیگی رہے گا۔
تخمینوں کے مطابق حکومت تقریباً 7 ہزار 824 ارب روپے صرف قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی پر خرچ کرے گی۔
یعنی وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ صرف قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی مالی مشکلات میں قرضوں کا بوجھ کس قدر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ
حکومت نے مالیاتی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے مجموعی طور پر 2,450 ارب روپے مختص کردیے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تجاویز میں بتایا کہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر حکومت نے مالیاتی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے مجموعی طور پر 2,450 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
حکومت ٹیکس سے کتنی آمدن حاصل کرنا چاہتی ہے؟
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔
یہ ہدف حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح اب بھی خطے کے کئی ممالک سے کم ہے۔
اسی لیے حکومت نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانے اور موجودہ نظام کو مزید سخت بنانے پر غور کر رہی ہے۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف؟
گزشتہ چند سالوں میں تنخواہ دار طبقہ مسلسل شکایت کرتا رہا ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکس وہی ادا کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت تقریباً 50 ارب روپے تک کا ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا سکتی ہے تاکہ مختلف آمدنی والے طبقات کو زیادہ متوازن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
سالانہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ آمدن رکھنے والوں پر عائد سرچارج ختم کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو لاکھوں ملازمین کو کچھ مالی ریلیف مل سکتا ہے۔
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے کیا خوشخبری ہے؟
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اگرچہ حتمی شرح کابینہ کی منظوری کے بعد سامنے آئے گی، تاہم توقع ہے کہ حکومت مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کرے گی۔
یہ فیصلہ تقریباً لاکھوں سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کو متاثر کرے گا۔
پیٹرولیم لیوی
حکومت نئے مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی وہ آمدن ہے جو براہ راست وفاقی حکومت کے پاس جاتی ہے اور اس میں صوبوں کا حصہ نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے اس ذریعہ آمدن پر خاص انحصار کیا ہے۔
کون سی چیزیں مہنگی ہو سکتی ہیں؟
بجٹ دستاویزات کے ابتدائی خدوخال کے مطابق بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل اور متعدد دیگر اشیائے خورونوش مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر عام گھریلو صارفین پر پڑے گا۔ مہنگائی سے پہلے ہی متاثر عوام کے لیے یہ ایک اہم تشویش ہے۔
سولر پینلز کے لیے کیا فیصلہ متوقع ہے؟
پاکستان میں بجلی کی بلند قیمتوں کے باعث حالیہ برسوں میں سولر پینلز کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے فی الحال سولر پینلز پر عائد ٹیکسوں میں کسی بڑی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے سولر سیکٹر میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی برقرار رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان کو ایک طرف آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنا ہیں، دوسری طرف معاشی ترقی کی رفتار بڑھانی ہے، قرضوں کا بوجھ کم کرنا ہے اور مہنگائی سے پریشان عوام کو کسی حد تک ریلیف بھی دینا ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس بجٹ میں کیا کچھ شامل ہے؟ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں؟ گزشتہ سال کے بجٹ سے اس کا موازنہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اور عام پاکستانی کی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر کیا اثر پڑے گا؟
حکومت درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہوتا ہے تو الیکٹرک گاڑیاں مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔
کرپٹو کرنسی پہلی بار ٹیکس نیٹ میں؟
بجٹ کی ایک اہم اور نئی تجویز کرپٹو ٹریڈنگ کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔ ذرائع کے مطابق کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان میں پہلی مرتبہ کرپٹو اثاثوں پر باقاعدہ ٹیکس فریم ورک متعارف کرایا جائے گا۔
ترقیاتی منصوبوں پر کیا حکمت عملی ہوگی؟
اس بار حکومت نے ایک مختلف حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دفاع اور وزارت داخلہ کے علاوہ کسی بڑے نئے ترقیاتی منصوبے کا آغاز نہیں کیا جائے گا۔
اس کے بجائے پہلے سے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود وسائل کے باعث نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے موجودہ منصوبوں کو مکمل کرنا زیادہ مؤثر ہوگا۔
برآمدات اور درآمدات کا ہدف
نئے مالی سال میں برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیے جانے کی تجویز ہے۔ دوسری طرف درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اب بھی تجارتی خسارے کے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔
سابق فاٹا کے لیے ٹیکس استثنا ختم؟
بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کو حاصل ٹیکس استثنا ختم کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہوتی ہے تو ان علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں اور مقامی معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بجٹ کس کے لیے ہے؟
ہر بجٹ کی طرح اس بار بھی حکومت کا دعویٰ ہے کہ بجٹ عوام دوست ہوگا، معاشی استحکام لائے گا اور ترقی کا راستہ ہموار کرے گا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو ایک ہی وقت میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایک طرف آئی ایم ایف کے اہداف، دوسری طرف قرضوں کا بوجھ، تیسری جانب دفاعی ضروریات اور چوتھی طرف عوامی ریلیف کی توقعات۔
اسی لیے مالی سال 2026-27 کا بجٹ محض آمدن اور اخراجات کا حساب نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کرنے والی ایک اہم دستاویز سمجھا جا رہا ہے۔
اب تمام نظریں قومی اسمبلی پر مرکوز ہیں، جہاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کریں گے اور ملک کو معلوم ہوگا کہ آنے والے سال میں حکومت کی اصل ترجیحات کیا ہیں، عوام کو ریلیف ملے گا یا نئے ٹیکسوں اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔







