ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق موجودہ سال کے اکتوبر کے مقابلے میں بھی نومبر کے مہینے میں مہنگائی میں 0.40 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق فوڈ انفلیشن یعنی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 5.53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح رہائشی اخراجات، جن میں ہاؤسنگ، گیس، بجلی، پانی اور ایندھن شامل ہیں، میں 5.34 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ صحت کے شعبے میں اخراجات 8.30 فیصد بڑھے،  جب کہ تعلیمی اخراجات میں 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 کے مقابلے میں نومبر 2025 میں چینی کی قیمت میں 39 فیصد اضافہ ہوا۔ گندم کی قیمت میں 21.38 فیصد جبکہ آٹے کی قیمت میں 14.31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 

رپورٹ کے مطابق اسی طرح گوشت 10.31 فیصد مہنگا ہوا جبکہ خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ 8 فیصد سے زائد رہا۔ اسی عرصے میں گیس کی قیمت میں 23 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق زیرِ جائزہ مہینے میں کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی، جن میں ٹماٹر، آلو، دال مسور، دال مونگ شامل ہیں، جب کہ بجلی کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔