ملک میں گزشتہ 28 دنوں کے دوران پانچویں مرتبہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد کمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمت مزید 5 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے۔ نئے اضافے کے بعد جیٹ فیول کی قیمت 476 روپے 97 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ سے اب تک جیٹ فیول کی قیمت میں مجموعی طور پر 288 روپے فی لیٹر کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یکم مارچ کو یہی ایندھن 188 روپے فی لیٹر کے حساب سے دستیاب تھا، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے میں کشیدگی کے باعث نرخوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹس غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس کا براہ راست اثر ایوی ایشن سیکٹر پر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب قومی ایئرلائن کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آنے لگے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی خریداری کرنے والے عارف حبیب گروپ کے سربراہ عارف حبیب نے خبردار کیا ہے کہ اگر جیٹ فیول کی قیمتوں میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو پی آئی اے کا آپریشن برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط پر معاہدہ طے، روئٹرز
انہوں نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت نہ صرف ایئرلائنز کے منافع کو متاثر کرتی ہے بلکہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہے، جس سے مسافروں پر بھی بوجھ بڑھتا ہے۔
واضع رہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو نہ صرف ایوی ایشن انڈسٹری بلکہ ملک کی مجموعی معیشت بھی اس کے اثرات سے متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ فضائی سفر کاروباری سرگرمیوں اور بین الاقوامی روابط کا اہم ذریعہ ہے۔







