بین الاقوامی ذرائع کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 111 ڈالر 43 سینٹ فی بیرل ہو گئی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی 2.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 114 ڈالر 57 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ سخت بیانات، ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش جیسے عوامل عالمی تیل مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا اس میں مزید شدت آئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ خاص طور پر درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال معاشی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط پر معاہدہ طے، روئٹرز

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عارضی بھی ہو سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار خطے کی سیاسی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے ردعمل پر ہوگا۔ اگر سفارتی سطح پر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو توانائی کی قیمتیں مزید غیر مستحکم رہنے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نہ صرف ایندھن بلکہ اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ اور صنعتی لاگت پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین تک منتقل ہوتا ہے۔