بجٹ دستاویزات کے مطابق آٹو موبائل سیکٹر پر نئے ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ درآمد شدہ گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کی جائے گی، جب کہ 2000 سے 3000 سی سی تک کی اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں (ایس یو ویز) پر بھی نئی ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر پہلے سے موجود ٹیکسوں میں مزید اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
حکومت نے دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
دوسری جانب چھوٹے تاجروں کے لیے ایک نیا فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ایسے دکاندار جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے، انہیں اپنی سالانہ فروخت کا ایک فیصد بطور ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جب کہ ٹیکس گوشوارے جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے جمع کرانا بھی لازمی ہوگا۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چھوٹے تاجر پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے کرایوں، کمزور قوتِ خرید اور کاروباری سست روی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کو معاشی استحکام اور ترقی کا بجٹ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ریلیف اور بوجھ کی تقسیم کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
بجٹ میں 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک سالانہ آمدن رکھنے والی مختلف کاروباری سلیبز پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے اداروں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کاروباری شعبے کو ریلیف دینا ضروری تھا تاکہ اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔
ادھر آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کو 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولیوں کا ہدف دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریاستی اخراجات پورے کرنے اور مالی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ریونیو میں اضافے کی ضرورت ہے۔
تاہم چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرایا گیا نیا فکسڈ ٹیکس نظام اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوششوں کا زیادہ بوجھ اسی طبقے پر پڑ سکتا ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
بجٹ 2026-27 کے حوالے سے بنیادی سوال یہی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا حکومت نے معاشی بوجھ کی تقسیم منصفانہ انداز میں کی ہے یا پھر ایک بار پھر بڑے کاروباری طبقے کو زیادہ ریلیف جبکہ چھوٹے کاروباروں کو اضافی مالی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔






