وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت گندم پالیسی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ، آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم، خیبر پختونخوا کے نمائندے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مجموعی طور پر 6.2 ملین ٹن گندم کے اسٹریٹجک ذخائر حاصل کریں گی، جس کی خریداری 3500 روپے فی من یا بین الاقوامی درآمدی قیمت کے مطابق کی جائے گی۔
بریفنگ کے مطابق یہ اقدام مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھتے ہوئے کسانوں کو منافع بخش قیمت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مزید بتایا گیا کہ بین الصوبائی گندم نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی تاکہ ملک بھر میں گندم کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
پالیسی کے نفاذ کے لیے وفاقی وزیر کی سربراہی میں ایک قومی نگرانی کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں تمام صوبوں کے نمائندے شامل ہوں گے، کمیٹی ہفتہ وار اجلاس کرے گی اور براہ راست وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت ہے اور گندم کی فصل کلیدی اہمیت کی حامل ہے، یہ نہ صرف عوام کی بنیادی خوراک ہے بلکہ کسانوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کے مسائل سے آگاہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، کسان ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ٹماٹر 560 روپے فی کلو تک پہنچ گئے
وزیراعظم نے کہا کہ نئی گندم پالیسی تمام صوبوں، کسان تنظیموں اور صنعتکاروں سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ اور کسانوں کے منافع کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ متفقہ گندم پالیسی زرعی ترقی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور ملک میں غذائی تحفظ کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔







