ڈان اخبار کے مطابق عالمی بینک نے اپنی تازہ پالیسی رپورٹ میں کہا ہے کہ جن ممالک نے تیز اور مستحکم معاشی ترقی حاصل کی، انہوں نے یہ کامیابی عالمی منڈیوں سے فائدہ اٹھا کر حاصل کی، لیکن پاکستان اس سمت میں پیش رفت نہیں کر سکا۔
رپورٹ کے مطابق 1990 کی دہائی میں پاکستان کی برآمدات مجموعی قومی پیداوار کے 16 فیصد کے برابر تھیں، جو 2024 میں کم ہو کر صرف 10 فیصد رہ گئی ہیں۔ برآمدات کا زیادہ تر انحصار کم قیمت والے ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات پر ہے، جبکہ معاشی نمو قرضوں اور ترسیلاتِ زر پر مبنی کھپت سے جڑی رہی ہے، نہ کہ برآمدات میں پائیدار اضافے سے۔
واشنگٹن میں قائم اس مالیاتی ادارے نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ برآمدی مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے زرِمبادلہ کی شرح میں لچک پیدا کرے اور ٹیرف نظام میں اصلاحات متعارف کرائے۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کو مداخلت کے بغیر ایک فعال اور گہری انٹربینک مارکیٹ کے قیام کی اجازت دینی چاہیے تاکہ برآمد کنندگان، درآمد کنندگان اور غیر ملکی سرمایہ کار زیادہ مؤثر طریقے سے حصہ لے سکیں۔
عالمی بینک نے کہا کہ انٹربینک مارکیٹ کے لین دین سے متعلق تفصیلات، حجم اور شرکا کے اعداد و شمار عوام کے لیے جاری کیے جائیں، اور مرکزی بینک کی غیر ضروری مداخلت بتدریج ختم کی جائے تاکہ زرِمبادلہ کی شرح حقیقی طلب و رسد کی عکاسی کر سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب معیشت میں تیزی آتی ہے تو درآمدات بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑتا ہے، خاص طور پر جب شرحِ مبادلہ کو مصنوعی طور پر قابو میں رکھا جائے۔ اس صورتحال سے بار بار ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہوتا ہے جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایا اور نجی سرمایہ کاری کو محدود کر دیا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کی کمزور برآمدی کارکردگی کی بنیادی وجوہات میں پیداواری صلاحیت، مسابقت کی کمی، بلند ٹیرف، زیادہ پیداواری لاگتیں اور صارفین کے لیے مہنگے نرخ شامل ہیں، جنہوں نے کاروباری لاگت میں اضافہ اور کمپنیوں کو مقامی منڈی تک محدود کر دیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ غیر ضروری سرکاری قواعد و ضوابط اور وفاقی سطح پر 200 سے زائد اداروں کی موجودگی نے کارکردگی متاثر کی ہے، سرمایہ کاری کو روکا ہے اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پیدا کی ہے، جبکہ برآمد کنندگان کے لیے مالی وسائل تک رسائی بھی مشکل ہے۔
رپورٹ کے مطابق کسٹمز مینجمنٹ اور لاجسٹکس کی لاگت بہت زیادہ ہے اور بیرونی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لیے حکومتی معاونت ناکافی ہے۔ ان خامیوں کے باعث تقریباً 60 ارب ڈالر کی ممکنہ برآمدات ضائع ہو چکی ہیں۔
عالمی بینک نے ایک جامع اصلاحاتی پیکج تجویز کیا ہے، جس میں ترجیحی اور آزاد تجارتی معاہدوں کو مزید گہرا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ ایسے معاہدے مسابقت اور منڈی تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں کیونکہ یہ تجارتی رکاوٹوں کو کم کرتے ہیں اور سرمایہ کاری و معیار کے ضوابط جیسے مسائل حل کرتے ہیں۔
تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یہ معاہدے مؤثر ثابت نہیں ہوئے اور کئی مواقع ضائع ہو گئے۔ فی الحال پاکستان کے صرف 10 تجارتی معاہدے ہیں جن میں سے زیادہ تر سطحی نوعیت کے ہیں اور محدود اشیاء پر ٹیرف میں نرمی تک محدود ہیں۔
چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ نسبتاً جامع ہے، مگر ملائیشیا، سری لنکا اور سارک کے ساتھ معاہدے محدود نوعیت کے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان اپنے ہم مرتبہ ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے جو وسیع معاہدوں کے ذریعے عالمی ویلیو چینز کا حصہ بن چکے ہیں۔
عالمی بینک نے سفارش کی کہ حکومت تجارتی مذاکراتی عمل میں شامل اہلکاروں کی تربیت کرے، صنعتوں اور برآمد کنندگان سے مشاورت کا نظام قائم کرے اور تجارتی معاہدوں کے نفاذ و کارکردگی کی نگرانی کے لیے مؤثر نظام وضع کرے۔
بینک نے یہ بھی مشورہ دیا کہ پاکستان غیر روایتی منڈیوں جیسے سب سہارا افریقہ اور لاطینی امریکا میں برآمدی مواقع بڑھانے کے لیے موجودہ معاہدوں کو خدمات، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل تجارت تک وسعت دے۔
عالمی بینک نے حالیہ ٹیرف اصلاحات کو سراہا لیکن کہا کہ ان کے ساتھ لچکدار زرِمبادلہ کی شرح، ایک فعال ایکسِم بینک، مضبوط تجارتی سہولت کاری اور وسیع تر ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے تاکہ برآمدی مسابقت کو حقیقی طور پر بہتر بنایا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی صلاحیت بڑھائی جائے تاکہ وہ انسدادِ ڈمپنگ اقدامات مؤثر انداز میں نافذ کر سکے، اور تجارتی مذاکراتی توجہ نئی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں مزید ٹیرف کمی پر مرکوز کی جائے۔







