آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اصل نشانہ وہ ترقی پذیر ممالک ہیں جن کے پاس تیل کا کوئی بیک اپ موجود نہیں ہے۔

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری اس تنازع نے سپلائی لائنز کاٹ دی ہیں۔ جہاں دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، وہیں  گلوبل ساؤتھ  یعنی پاکستان، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک ایک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کے رکن ممالک، جو کہ امیر صنعتی ممالک ہیں، ان کے لیے 90 دن کا تیل ذخیرہ کرنا لازمی ہے۔ لیکن ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک  مہنگی عیاشی  بن چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ممالک کے پاس نہ تو اتنا سرمایہ ہے کہ وہ مہنگا تیل خرید کر اسٹور کر سکیں اور نہ ہی ان کے پاس اتنی بڑی اسٹوریج کی سہولیات موجود ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحران میں چین سب سے زیادہ محفوظ نظر آتا ہے۔ اس وقت چین کے پاس 1.4 بلین بیرل کے ہنگامی ذخائر موجود ہیں، جو کہ امریکا، جاپان اور پورے یورپ کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے جھٹکے چین کو اس طرح متاثر نہیں کر رہے جیسے دیگر ایشیائی ممالک کو۔

تو اس کا حل کیا ہے؟ ماہرین کے مطابق دو راستے ہیں:

پہلا یہ کہ ترقی پذیر ممالک علاقائی اتحاد بنائیں اور مل کر توانائی کے ذخائر قائم کریں۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ  قابلِ تجدید توانائی ۔ جب تک ہم تیل پر اپنا انحصار ختم نہیں کریں گے، عالمی سیاست کے یہ جھٹکے ہماری معیشت کو اسی طرح غیر مستحکم کرتے رہیں گے۔

توانائی کا یہ بحران صرف قیمتوں کا اضافہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اب اس مسئلے سے پاکستان کیسے نمٹتا ہے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے۔