نجی نشریاتی ادارے کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحولیاتی لچک بڑھانے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر بھی خاطر خواہ پیش رفت کی ہے، جب کہ آر ایس ایف کے تحت متعدد اصلاحاتی اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
اعلامیے میں عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مالی دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان اور ادارے کے درمیان مزید مذاکرات آئندہ چند روز تک جاری رہیں گے تاکہ جلد حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان کے سات ارب ڈالرز کے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے جائزے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر ہونے والی بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے اور مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
آئی ایم ایف نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر وعدوں کے مطابق رہا ہے اور مالیاتی خسارہ کم کرنے اور پبلک فنانس کو مضبوط بنانے کے امور پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفود کے درمیان 25 فروری سے 11 مارچ تک ورچوئل مذاکرات ہوئے۔ اس دوران پاکستانی وفد کے ساتھ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے پر گفتگو کی گئی، جبکہ سماجی تحفظ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اخراجات بڑھانے سے متعلق بھی معاشی ٹیم سے تبادلۂ خیال ہوا۔
Fund questions tax collection outlook and primary surplus target; mission returns to Washington without staff-level deal as talks expected to continue before next mission in May
— Profit (@Profitpk) March 12, 2026
Read: https://t.co/3USOsr2aE4 pic.twitter.com/83uCPnOcD1
اعلامیے کے مطابق حکام کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات میں پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے پاکستانی معیشت پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ایوا پیٹرووا نے کہا کہ فروری 2026 کے اختتام تک ای ایف ایف پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر حکومت کے وعدوں کے مطابق رہا ہے۔ آئندہ کی پالیسیوں کے حوالے سے بھی خاصی پیش رفت ہوئی ہے، جن میں مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے سرکاری مالیات کو مستحکم کرنا، مہنگائی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنا اور توانائی کے شعبے کی پائیداری بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانا شامل ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ معاشی نمو کو تیز کرنے کے حکومتی ہدف کے پیش نظر ساختی اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں اخراجات میں اضافے کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔
آئی ایم ایف نے ایک بار پھر عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مالی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مزید مذاکرات آئندہ چند روز تک جاری رہیں گے۔
واضح رہے کہ اگر یہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر اپریل کے آخر تک موصول ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔






