کراچی چیمبر آف کامرس میں پیر کے روز  آئی بی آئی کے 70 رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ اگرچہ ایم او یوز طویل المدتی تعاون کی جانب ابتدائی قدم ہوتے ہیں، تاہم حکومتِ پاکستان نے ان پر مؤثر عملدرآمد اور انہیں عملی کاروباری معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع نظام قائم کر رکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایم او یوز کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل کرنے کی شرح تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو حکومتی فالو اپ اور مؤثر عملدرآمد کی عکاسی کرتی ہے۔

اس موقع پر کراچی چیمبر اور آئی بی آئی گروپ کے درمیان ڈیجیٹل معیشت اور صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک شراکت داری کی مفاہمتی یادداشت پر صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف اور آئی بی آئی گروپ کی ڈائریکٹر لیو جون ژائی نے دستخط بھی کیے۔

خلیل ہاشمی نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت دنیا کی بڑی بیٹری ساز کمپنی سی اے ٹی ایل کے ساتھ فعال مذاکرات کر رہا ہے، جو لیتھیئم آئن اور سوڈیم بیسڈ بیٹری ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کمپنی کو ملک میں سرمایہ کاری اور تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم کے آئندہ دورۂ چین کے دوران اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی بتدریج لیتھیئم آئن بیٹریوں سے سوڈیم بیسڈ بیٹری ٹیکنالوجی کی جانب منتقل ہو رہی ہے، جب کہ پاکستان کے پاس اس صنعت کے لیے درکار خام مال وافر مقدار میں موجود ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اس ابھرتے ہوئے شعبے میں فرسٹ موور ایڈوانٹیج حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور جدید بیٹری مینوفیکچرنگ اور نئی توانائی کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے حصول کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔