پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے منگل کے روز کاروباری دن کا آغاز مثبت انداز میں کیا۔
خبر رساں ادارے بزنس ریکارڈر کی تازہ رپورٹ کے مطابق خریداری کا رجحان آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اور گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور پاور سیکٹر میں دیکھا گیا۔ نمایاں کمپنیوں میں حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل شامل ہیں جن کے شیئرز سبز زون میں رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کے ساتھ جاری فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تیسرے مرحلے میں پاکستان نے تقریباً 700 مصنوعات پر یکطرفہ ٹیرف مراعات کی درخواست کی ہے۔
وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کے بعد پاکستان کی چین کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے تاہم دیگر ممالک کے ساتھ چین کے معاہدوں کی وجہ سے پاکستان کی منڈی تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔
گزشتہ روز اسٹاک مارکیٹ مندی کے ساتھ بند ہوئی تھی جب سرمایہ کاروں نے پچھلے ہفتے کی تیزی کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس چار سو بیاسی پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 57 ہزار پانچ سو چون پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر منگل کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔ اس کی ایک وجہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی کمپنی این ویڈیا کی جانب سے اوپن اے آئی میں ایک سو ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کے اعلان نے سرمایہ کاروں کو مزید پُر امید کیا۔ کمپنی کے مطابق پہلا ڈیٹا سینٹر گیئر دو ہزار چھبیس کی دوسری ششماہی میں فراہم کیا جائے گا۔

ٹیکنالوجی شعبے کی کارکردگی نے جنوبی کوریا کے انڈیکس کو رواں ماہ نو فیصد، جاپان کو چھ اعشاریہ پانچ فیصد اور تائیوان کو تقریباً سات فیصد تک بڑھا دیا ہے۔ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس پانچ اعشاریہ پانچ فیصد کے اضافے کے ساتھ بہتر ہوا ہے جبکہ چینی بلیو چپ اسٹاکس میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔
واضع رہے کہ تجزیہ کار آئندہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ میں مزید بہتری کی امید کر رہے ہیں تاہم چین کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات اور عالمی معیشت کی صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔
وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق پاکستان ترجیحی تجارتی رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔







