رپورٹ کے مطابق صبح نو بج کر 35 منٹ پر انڈیکس 1.21 فیصد کمی کے ساتھ 162534.70 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، او ایم سیز اور پاور جنریشن کے شعبوں میں نمایاں فروخت کا دباؤ رہا۔ حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی اور میپل کے حصص انڈیکس پر منفی اثر ڈالنے والی بڑی کمپنیوں میں شامل رہے۔

مزید براں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 3.2 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے 2.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہانہ بنیاد پر بھی ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ اگست میں ترسیلات 3.1 ارب ڈالر تھیں۔


اسی دوران کے الیکٹرک کی ملکیت اور مستقبل کی شراکت داری سے متعلق دو اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ پہلی یادداشت کے ایس پاور لمیٹڈ کے حصص کی خرید و فروخت سے متعلق تھی جبکہ دوسری یادداشت کے الیکٹرک اور ٹرائیڈنٹ انرجی لمیٹڈ کے درمیان پاکستان کے توانائی شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے طے پائی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ منفی رجحان پر بند ہوئی جہاں وسیع فروخت کے دباؤ نے ابتدائی منافع ختم کر دیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 735.94 پوائنٹس کمی کے بعد 164530.81 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر ایشیائی مارکیٹس میں بھی کمزور رجحان رہا۔ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس جاپان کے علاوہ 0.2 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا تھا۔ ہانگ کانگ میں 1.1 فیصد کمی جبکہ آسٹریلیا میں 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔ جنوبی کوریا کا انڈیکس 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں طور پر مضبوط رہا۔

واضع رہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر وال اسٹریٹ میں گراوٹ اور اجناس کی منڈیوں میں سست روی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔