خبر رساں اشاعتی ارادے بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ٹریڈنگ کے ابتدائی لمحات میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس بڑھ کر 166,704 پوائنٹس کی سطح پر جا پہنچا۔ صبح ساڑھے نو بجے انڈیکس میں 1,017 پوائنٹس یعنی 0.61 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں مثبت رجحان کی وجہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا اسٹاف لیول معاہدہ بتایا جا رہا ہے۔ معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے جس کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔
ٹریڈنگ کے دوران آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹر میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری جاری ہے۔ ایم اے آر آئی، پی او ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی، پی آر ایل، حبکو، ایچ بی ایل، ایم سی بی اور یو بی ایل کے حصص مثبت زون میں ٹریڈ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا تھا۔ سرمایہ کاروں نے منافع حاصل کرنے کو ترجیح دی تاہم ٹریڈنگ کے حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بدھ کے سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس 210 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 165,686 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی جمعرات کو بیشتر ایشیائی مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ جاپان کا نکی انڈیکس 0.8 فیصد بڑھا، تائیوان میں 1.4 فیصد، جنوبی کوریا کے کوسپی میں 1.8 فیصد اور آسٹریلیا کے انڈیکس میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا۔ وال اسٹریٹ پر بھی مثبت رجحان جاری رہا جہاں ایس اینڈ پی 500 میں 0.4 فیصد اور نیسڈیک میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
واضع رہے کہ سونا نئی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ امریکی ڈالر دباؤ میں رہا اور جاپانی ین جیسے محفوظ اثاثوں کی طلب میں اضافہ ہوا۔ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی کشیدگی کے باوجود ہانگ کانگ اور چین کی مارکیٹیں بھی مثبت زون میں رہیں۔






