لیبر سروے کے مطابق آبادی میں سالانہ دو فیصد سے زیادہ کا اضافہ بدستور جاری ہے، جب کہ اصل تعداد رپورٹ میں بیان کردہ اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے اور اگر جز وقتی کام کرنے والوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہو جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بے روزگاری کی بلند ترین شرح 15 سے 24 سال عمر کے نوجوانوں میں ریکارڈ کی گئی ہے، جو 2024–2025 میں 12.8 فیصد رہی جب کہ 2020–2021 میں یہ شرح 11.1 فیصد تھی۔

 سروے میں کہا گیا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں مایوسی، ناامیدی اور بے مقصد پھرنے والے نوجوان نظر آتے ہیں، جن میں سے کچھ چھوٹے جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جب کہ چند کو خفیہ طور پر ریاست مخالف نیٹ ورکس بھی اپنے استعمال میں لے لیتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر نوجوان غیر رسمی شعبے میں کام کرتے ہیں جہاں وہ صرف گزارا کرنے کے لیے قومی سطح پر مقررہ کم از کم اجرت کا آدھا تک ہی کما پاتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے روزگار فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انہیں بے روزگاری کے حقیقی خاتمے کے بجائے سیاسی مقاصد اور حکمران جماعتوں کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

 اکثر اوقات ان منصوبوں کے مجموعی بجٹ کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ تشہیری مہم اور انتظامی اخراجات پر خرچ کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ پروگرام کبھی مؤثر ثابت نہیں ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے پروگراموں کی تشہیر تو کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس کالج کی ڈگری تک موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق  گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں میں ملک کی آبادی سات سے آٹھ کروڑ تک بڑھ چکی ہے مگر سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، جب کہ  نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں اتنی زیادہ ہیں کہ عام شہری اپنے بچوں کو وہاں تعلیم دلوانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔