اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز کی بندش جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو پاکستان میں ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے اور بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ تاہم پاکستان نے اس ممکنہ خطرے کے پیش نظر وسطی ایشیائی ملک آذربائیجان کے ساتھ توانائی تعاون کو نئی سمت دی ہے۔

آذربائیجان کے پاس تقریباً 1.3 ٹریلین کیوبک میٹر گیس کے ذخائر موجود ہیں، جب کہ ’شاہ ڈینیز فیلڈ‘ اس کے بڑے گیس منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس فیلڈ کی سالانہ پیداوار 51.5 بلین کیوبک میٹر ہے، جو پاکستان کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس وقت پاکستان کے پاور سیکٹر کو تقریباً 400 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا بڑا حصہ متبادل سپلائی چینز کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے اور آذربائیجان سے ممکنہ درآمدات اس خلا کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس معاہدے میں اصل اہمیت صرف گیس کی نہیں بلکہ اس کے ترسیلی راستے کی بھی ہے، کیونکہ خلیجی خطے کی سپلائی لائنز جہاں جغرافیائی کشیدگی کے خطرات سے دوچار رہتی ہیں، وہیں آذربائیجان سے توانائی کی ترسیل نسبتاً محفوظ اور متبادل راستوں سے ممکن ہو سکتی ہے، جو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2025 کے فریم ورک کے تحت پاکستان اور آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی سوکار ٹریڈنگ کے درمیان معاہدہ پہلے ہی موجود ہے، جو اس تعاون کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت وقتی حل نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک پلان کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے توانائی ذرائع کو متنوع بنانا اور ممکنہ عالمی سپلائی بحرانوں سے بچاؤ یقینی بنانا ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی بھی ہے یا اہم بحری راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو پاکستان پہلے کی نسبت کم توانائی خطرات کی زد میں ہوگا۔