اعداد و شمار کے مطابق یکم فروری کو نئی دہلی میں پٹرول کی قیمت تقریباً 94 انڈین روپے فی لیٹر تھی، جو بعد میں بھی تقریباً اسی سطح پر برقرار رہی۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
دوسری جانب پاکستان میں اسی عرصے کے دوران پٹرول کی قیمت 257 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر تقریباً 414 روپے تک پہنچ گئی، یعنی قیمت میں تقریباً 65 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے اثرات مہنگائی کی صورت میں عام شہریوں تک پہنچے۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً 54 سے 64 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مختلف ممالک نے اس اضافے کے اثرات کو اپنے معاشی ماڈلز کے مطابق سنبھالا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نظام تقریباً مکمل طور پر پاس تھرو سسٹم کے تحت چلتا ہے، جس کے تحت عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ فوری طور پر صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی پابندیوں کے باعث حکومت کے پاس سبسڈی دینے یا قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی اور ٹیکس بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے کے ساتھ درآمدی لاگت بڑھتی ہے، جب کہ ٹیکس اور لیویز مجموعی قیمت کو مزید اوپر لے جاتے ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کی بیشتر ریفائنریز پرانی ٹیکنالوجی پر چل رہی ہیں، جس کے باعث ان کی استعداد کم اور پیداواری لاگت زیادہ ہے۔ اس اضافی لاگت کا بوجھ بھی بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اس کے برعکس انڈیا اور بعض دیگر ممالک میں حکومتیں وقتی طور پر قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے سبسڈی یا مالی سہارا فراہم کرتی ہیں تاکہ عوام پر فوری مہنگائی کا دباؤ نہ پڑے، جب کہ پاکستان میں عالمی قیمتوں کا اثر براہِ راست پٹرول پمپوں پر نظر آتا ہے۔






