یہ اعلان اس موقع پر کیا گیا جب کیو جی ڈی سی اور ہواوے پاکستان نے کراچی میں منعقدہ کیو سمٹ کے دوران ایک اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے۔ دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ اشتراک پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
کمپنی کے مطابق آئندہ تین سے چار برسوں کے دوران اس منصوبے میں مجموعی سرمایہ کاری بڑھ کر 600 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شراکت داری کے تحت ایک جدید سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اور پاکستان کے سب سے بڑے ٹیئر تھری ڈیٹا سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جس سے ملک کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور جدت پر مبنی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔
یہ منصوبہ ایک ایسے جدید اور محفوظ ڈیٹا سینٹر پر مشتمل ہوگا جو توسیع پذیر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر فراہم کرے گا۔ یہ مرکز کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ورک لوڈز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل فنانس، ای گورننس سروسز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی ایپلی کیشنز کی معاونت کی صلاحیت رکھے گا۔
منصوبے کا مقصد مقامی ڈیٹا ہوسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ، ڈیٹا خودمختاری کو مضبوط بنانا اور سرکاری و نجی شعبوں میں جدید ڈیجیٹل خدمات کے فروغ کو تیز کرنا ہے۔
شراکت داری کے معاہدے پر کیو جی ڈی سی کے چیف آپریٹنگ آفیسر عبید امان اللہ اور ہواوے پاکستان کے سی ای او برائے اے آئی اینڈ کلاؤڈ بزنس احمد بلال مسعود نے دستخط کیے۔
کیو جی ڈی سی کے چیئرمین دانش اقبال نے کہا کہ ہواوے کے ساتھ یہ اشتراک پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے ٹیئر تھری ڈیٹا سینٹر اور عالمی معیار کے سائنس و ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے ذریعے جدت، معاشی ترقی اور تکنیکی پیش رفت کی مضبوط بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ قومی صلاحیتوں کو فروغ دے گا، سرمایہ کاری کو راغب کرے گا اور پاکستان کو ایک مسابقتی ڈیجیٹل معیشت کے طور پر ابھرنے میں مدد دے گا۔
اس موقع پر احمد بلال مسعود نے کہا کہ پاکستان ایک نئے ڈیجیٹل دور کی دہلیز پر کھڑا ہے اور یہ شراکت داری اس یقین کی عکاس ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدت کے لیے مضبوط ڈیجیٹل بنیادوں کا ہونا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب جدید ڈیٹا سینٹرز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، محفوظ کلاؤڈ پلیٹ فارمز اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر یکجا ہوتے ہیں تو کاروباری اداروں، حکومتوں اور معاشرے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
احمد بلال مسعود نے مزید کہا کہ انہیں پاکستان کے سب سے بڑے ٹیئر تھری ڈیٹا سینٹر کے قیام اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔
ان کے مطابق یہ شراکت داری ایک مضبوط ڈیجیٹل نظام کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت ہے، جو کلاؤڈ سروسز، اے آئی ایپلی کیشنز، ڈیجیٹل عوامی خدمات اور نئی نسل کی ٹیکنالوجیز کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ جدت، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کو بھی فروغ دے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیر برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی علی راشد نے کراچی ٹیکنوپولیس اور کوانٹم گلوبل ڈیٹا سینٹر منصوبے کے لیے حکومتِ سندھ کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کراچی میں ایک مضبوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی بنیاد رکھیں گے اور پاکستان میں ڈیٹا سینٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی راہ ہموار کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل ڈیٹا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے اور حکومت اس وژن کی تکمیل کے لیے بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہواوے پاکستان اور کیو جی ڈی سی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت اور ڈیزائن معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر انفرااسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک کی ترقی میں تعاون فراہم کرنا ہے۔
اس مفاہمتی یادداشت کے تحت ہواوے پاکستان ڈیٹا سینٹر کے ڈیزائن، تکنیکی منصوبہ بندی اور خصوصی ٹیکنالوجی سلوشنز فراہم کرے گا تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اگلی نسل کے، قابلِ توسیع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔







