سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خرم شہزاد نے کہا کہ بیرونی قرضوں کے انتظام کے معمول کے عمل کے تحت پاکستان نے 8 اپریل کو 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی مقررہ میعاد کے مطابق مکمل طور پر کر دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک نے دیگر یورو بانڈز پر 126.125 ملین ڈالر کے کوپن کی ادائیگیاں بھی پوری کیں، جس کے بعد منگل کو مجموعی ادائیگیوں کا حجم 1.426 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ قرضوں کی ادائیگی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے تسلسل سے جاری ہے، جو مالی نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور مضبوط صلاحیت کا مظہر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بڑی بیرونی ادائیگیوں کی بروقت تکمیل نہ صرف ملک کی مالی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے رواں ماہ کے اختتام سے قبل متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک سینئر سرکاری اہلکار کے مطابق ابوظہبی نے اس رقم کی جلد واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ فنڈز 2019 میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے توازنِ ادائیگی کو سہارا دینے کے لیے فراہم کیے گئے تھے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں۔