رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ زرِ مبادلہ استحکام و معاونتی سہولت قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس کا حجم 10 ارب ڈالر اور مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق اس سہولت کی منظوری سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے پر دباؤ میں کمی اور کثیرالجہتی مالی معاونت پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے، جب کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی اور زری اصلاحات پر عمل جاری رکھے گا۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جب کہ پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے بھی روئٹرز کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے باوجود فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی، جس میں خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجز پر بات چیت ہوئی، تاہم وزارت خزانہ کے جاری کردہ اعلامیے میں 10 ارب ڈالر کی اس درخواست کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
پاکستان کی امریکا سے 10 ارب ڈالر کی بیک اسٹاپ فیسلٹی کی درخواست، روئٹرز#ARYNews pic.twitter.com/kO67evuZeV
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 22, 2026
وزارت خزانہ کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک نے دوطرفہ معاشی تعاون، پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے اور مختلف اسٹریٹجک منصوبوں پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کے تحت ہے، جب کہ 2023 میں 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے نے ملک کو ممکنہ ڈیفالٹ سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
روئٹرز کے مطابق امریکی زرِ مبادلہ استحکام سہولت ایک محدود اور شاذ و نادر فراہم کی جانے والی مالی سہولت ہے، جس کے ذریعے ڈالر، کرنسی سواپ یا دیگر مالی ضمانتیں فراہم کر کے شراکت دار ممالک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں کرپٹو اثاثوں کی درجہ بندی پر علمائے کرام سے مشاورت شروع
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اب بھی بڑی حد تک بیرونی مالی معاونت، قرضوں کی تجدید اور چین، سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے مالی تعاون پر انحصار کرتے ہیں، جب کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور خطے میں کشیدگی پاکستان کے ذخائر پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
روئٹرز کے مطابق پاکستان حالیہ برسوں میں امریکا کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں معدنیات، کرپٹو کرنسی، جائیداد اور دیگر سرمایہ کاری کے شعبے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ روئٹرز کی اس رپورٹ میں 10 ارب ڈالر کی درخواست کا دعویٰ ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کیا گیا ہے، جب کہ خبر لکھے جانے تک امریکا یا پاکستان کی جانب سے اس درخواست کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔







